صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1335. باب صلاة الكسوف - ذكر الخبر الدال على أن سمرة لم يسمع قراءة المصطفى صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف لأنه كان في أخريات الناس بحيث لا يسمع صوته
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ سمرہ نے صلاة الكسوف میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت نہیں سنی کیونکہ وہ لوگوں کے آخر میں تھا جہاں سے آواز نہیں سنائی دیتی تھی
حدیث نمبر: 2852
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ، أَنَّهُ شَهِدَ خِطْبَةَ يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سَمُرَةُ : بَيْنمَا أَنَا يَوْمًا وَغُلامٌ مِنَ الأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الأُفُقِ اسْوَدَّتْ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلَقَ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ لَتُحْدِثَنَّ هَذِهِ الشَّمْسُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أُمَّتِهِ، حَدِيثًا قَالَ: فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ بَارَزٌ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ قَالَ: " فَتَقَدَّمَ، فَصَلَّى بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلاةٍ قَطُّ لا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ كَأَطْوَلِ مَا سَجَدْنَا قَطُّ لا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ قَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ"، قَالَ: فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسُ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَسَلَّمَ" .
ثعلبہ بن عباد عبدی کے بارے میں یہ بات منقول ہے، وہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں موجود تھے، تو انہوں نے اپنے خطبے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک مرتبہ میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا نشانے بازی کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج دو نیزوں جتنا یا شاید تین نیزوں جتنا ہو گیا دیکھنے والے کو افق سیاہ محسوس ہونے لگا (یعنی سورج گرہن ہو گیا) تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم مسجد کی طرف چلتے ہیں اللہ کی قسم! سورج کی یہ حالت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی نیا حکم لے کر آئے گی۔ راوی کہتے ہیں: ہم لوگ مسجد کی طرف آئے وہاں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف تشریف لائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی جو سب سے طویل نماز تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پڑھائی تھی لیکن ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا جو سب سے طویل سجدہ تھا جو ہم نے کسی بھی نماز میں کیا تھا لیکن ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی نہیں دی پھر دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرنے کے بعد آپ بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسری رکعت میں بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج روشن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2852]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2841»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (216)، «الإرواء» (662).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
ثعلبة بن عباد العبدي ← سمرة بن جندب الفزاري