صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1341. باب صلاة الاستسقاء - ذكر ما يستحب للإمام عند وقوع الجدب بالناس أن يستسقي الله جل وعلا لهم
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو امام کے لیے مستحب ہے کہ جب لوگوں پر قحط پڑے تو وہ اللہ جل وعلا سے ان کے لیے استسقاء کرے
حدیث نمبر: 2858
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَحِطَ الْمَطَرُ، وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ، وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا" قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ، قَالَ: فَنَشَأَتْ سَحَابَةٌ، فَانْتَشَرَتْ، ثُمَّ إِنَّهَا مَطَرَتْ، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، وَانْصَرَفَ فَلَمْ تَزَلْ تُمْطِرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ، صَاحُوا وَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ يَحْبِسْهَا عَنَّا، قَالَ: فَتَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلا عَلَيْنَا" ، قَالَ: فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوْلَهَا، وَمَا تَقْطُرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الإِكْلِيلِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے انہوں نے بلند آواز سے کہا: اے اللہ کے نبی! بارش کا قحط پڑ گیا ہے درخت سیاہ ہو گئے ہیں جانور ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، وہ ہم پر بارش نازل کر دے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! ہم پر بارش نازل کر دے۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی بھی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں: اسی دوران ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور وہ پھیلنا شروع ہوا پھر بارش شروع ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی اس کے بعد اگلے جمعے تک بارش ہوتی رہی پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو لوگوں نے بلند آواز میں عرض کی: اے اللہ کے نبی! گھر گر رہے ہیں سفر کرنا ممکن نہیں رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، وہ ہم سے بارش کو روک دے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے پھر فرمایا: اے اللہ! ہمارے آس پاس ہو ہم پر نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں: مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گیا، اور مدینہ منورہ کے اردگرد بارش ہوتی رہی اور مدینہ منورہ پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں پڑا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ کو دیکھا تو وہ تاج کی مانند تھا۔ (یعنی اس سے بادل چھٹ چکا تھا) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2858]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2847»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1065): خ، م مختصراً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري