صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
47. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر كراهية سب ألم الحمى لذهاب خطاياه بها
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی کراہت کا ذکر کہ بخار کے درد کو گالی دی جائے کیونکہ اس سے گناہ ختم ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 2938
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ، أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ، وَهِيَ تُرَفْرِفُ فَقَالَ:" مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ، أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ، تَرَفْرِفِينَ؟" قَالَتِ: الْحُمَّى لا بَارِكَ اللَّهُ فِيهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَسُبِّي الْحُمَّى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا ابْنِ آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اُم سائب (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ام مسیب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، وہ کپکپا رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ام سائب (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) اے ام مسیب! تمہیں کیا ہوا ہے، تم کیوں کپکپا رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کی: بخار ہے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بخار کو برا نہ کہو کیونکہ یہ انسان کے گناہوں کو یوں ختم کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو ختم کر دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2938]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2575، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2938، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6657، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2083، 2173» «رقم طبعة با وزير 2927»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (715 و 1215): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2938 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري