صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
85. باب المريض وما يتعلق به - ذكر البيان بأن يد محمد بن حاطب لما دعا له النبي صلى الله عليه وسلم بما وصفت برئت
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا بیان کہ محمد بن حاطب کے ہاتھ کی بیماری اس دعا سے ٹھیک ہو گئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی، جیسا کہ ہم نے بیان کیا
حدیث نمبر: 2977
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلِّلِ ، قَالَتْ: أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، حَتَّى إِذَا كُنْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ، عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبْخَةً فَفَنِيَ الْحَطَبُ، فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ، فَتَنَاوَلْتَ الْقَدْرَ، فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ، فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ، وَهُوَ أَوْلُ مَنْ سُمِّيَ بِكَ، قَالَتْ: فَتَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي فِيكَ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا لَكَ وَقَالَ: " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لا شِفَاءَ، إِلا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا" ، قَالَتْ: فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدَهُ إِلا وَقَدْ بَرِئَتْ يَدُكَ.
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سیدہ ام جمیل بنت مجلل رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں تمہیں لے کر حبشہ کی سرزمین سے آئی، ابھی مدینہ منورہ آئے ہوئے ایک یا دو راتیں گزری تھیں کہ میں نے تمہارے لیے کھانا تیار کیا، لکڑیاں ختم ہو گئیں، میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی، تم نے ہنڈیا کو پکڑا اور اپنی کلائی کے اوپر انڈیل لیا، میں تمہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ محمد بن حاطب ہے اور یہ پہلا بچہ ہے، جس کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک پر رکھا گیا ہے، سیدہ ام جمیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن تمہارے منہ میں ڈالا، تمہارے سر پر دستِ مبارک پھیرا اور تمہارے لیے دعا کی اور یہ کہا: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے لوگوں کے پروردگار! تو تکلیف کو دور کر دے، تو شفا عطا کر دے، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، شفا صرف وہی ہے، جو تو عطا کرے، ایسی شفا عطا کر دے جو بیماری کو نہ رہنے دے۔“ سیدہ ام جمیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابھی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے تمہیں لے کر اٹھی نہیں تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2977]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2976، 2977، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7002، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7496، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15691» «رقم طبعة با وزير 2966»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
منكر. * [حَدَّثَنِي أَبِي] قال الشيخ: قال الذهبي في «المغني»: «لا يُحتجُّ به، له مناكير». وابنه (عبد الرحمن)؛ ضعفة أبو حاتم الرازيّ. ومن طريقه: أحمد (3/ 118).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن في الشواهد
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2977 in Urdu
محمد بن حاطب الجمحي ← أسماء بنت المجلل العامرية