صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
115. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر الإخبار عن السبب الذي من أجله يحب المرء ويكره لقاء الله
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس وجہ کی اطلاع جس کی بنا پر آدمی اللہ سے ملاقات کو پسند یا ناپسند کرتا ہے
حدیث نمبر: 3009
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّا نَكْرَهُ الْمَوْتَ، فَذَاكَ كَرَاهِيَتُنَا لِقَاءَ اللَّهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ فَبُشِّرَ بِمَا أَمَامَهُ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ، فَبُشِّرَ بِمَا أَمَامَهُ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخصاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہےاللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو شخصاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہےاللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ہم تو موت کو پسند نہیں کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہماللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند نہیں کرتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں! جب مومن کا آخری وقت قریب آتا ہے، تو اسے آگے (ملنے والی نعمتوں) کے بارے میں خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اوراللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کا آخری وقت قریب آتا ہے، تو اسے آگے (ملنے والے عذاب وغیرہ) کے بارے میں بتایا جاتا ہے، تو وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اوراللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3009]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2998»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
أنس بن مالك الأنصاري ← عبادة بن الصامت الأنصاري