🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
123. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر ما يستحب للمرء إذا علم من أخيه حوبة وقد مات أن يستغفر الله جل وعلا له
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اگر اسے اپنے بھائی کے گناہ کا علم ہو اور وہ مر جائے تو وہ اللہ جل وعلا سے اس کے لیے استغفار مانگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3017
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلُمَّ إِلَى حِصْنٍ وَعَدَدٍ وَعِدَّةٍ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: حِصْنٌ فِي رَأْسِ الْجَبَلِ لا يُؤْتَى إِلا فِي مِثْلِ الشِّرَاكِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَعَكَ مَنْ وَرَاءَكَ؟" قَالَ: لا أَدْرِي، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو مُهَاجِرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ رَهْطِهِ، فَحُمَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ حِمَّى شَدِيدَةً، فَجَزِعَ، فَأَخَذَ شَفْرَةً، فَقَطَعَ بِهَا رَوَاجِبَهُ فَتَشَخَّبَتْ حَتَّى مَاتَ، فَدُفِنَ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى الطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فِي شَارَةٍ حَسَنَةٍ وَهُوَ مُخَمِّرٌ يَدَهُ، فَقَالَ لَهُ الطُّفَيْلُ: أَفُلانٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: صَنَعَ بِي رَبِّي خَيْرًا، غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ يَدَاكَ؟ قَالَ: قَالَ لِي رَبِّي: لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ مِنْ نَفْسِكَ، قَالَ: فَقَصَّ الطُّفَيْلُ رُؤْيَاهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ: " اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ، اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ، اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف تشریف لائیں جہاں قلعہ بھی ہے اور لوگوں کی تعداد بھی ہے اور متعدد (قسم کا ساز و سامان) بھی ہے، یہاں ابوزبیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے وہ قلعہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر تھا جہاں انتہائی مشکل سے پہنچا جا سکتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں کیا وہ تمہارے ساتھ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے ہمراہ ان کے قبیلے کا ایک شخص موجود تھا اس شخص کو شدید بخار ہو گیا وہ گریہ وزاری کرنے لگا اس نے چھری لی اور اس کے ذریعے اپنی رگ کاٹی اس کا خون بہنے لگا، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا اسے دفن کر دیا گیا پھر رات کو خواب میں ایک شخص سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جو انتہائی عمدہ حلیے میں تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کو ڈھانپا ہوا تھا طفیل نے اس سے دریافت کیا: تم فلاں ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارا کیا حال ہے اس نے بتایا: میرے پروردگار نے میرے ساتھ عمدہ سلوک کیا ہے اور میرے اس کے نبی کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے میری مغفرت کر دی ہے۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارے ہاتھ کا کیا ہوا، تو اس نے بتایا: میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا: ہم تمہاری اس چیز کو ہرگز ٹھیک نہیں کریں گے جسے تم نے خود خراب کر دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے (اور یہ دعا کی) اے اللہ! تو اس کے دونوں ہاتھوں کی بھی مغفرت کر دے اے اللہ! تو اس کے دونوں ہاتھوں کی بھی مغفرت کر دے اے اللہ! تو اس کے دونوں ہاتھ کی بھی مغفرت کر دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3017]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3006»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «مختصر مسلم» (ص 35)، «ضعيف الأدب المفرد» (95 و 96).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥الحجاج بن أبي عثمان الصواف، أبو عثمان، أبو الصلت
Newالحجاج بن أبي عثمان الصواف ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← الحجاج بن أبي عثمان الصواف
ثقة حجة حافظ
👤←👥إبراهيم بن عبد الله الهروي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن عبد الله الهروي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← إبراهيم بن عبد الله الهروي
ثقة مأمون