صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
287. فصل في الشهيد - ذكر الخصال التي تقوم مقام الشهادة لغير القتيل في سبيل الله
شہید کے بیان میں فصل - اس بات کی خصوصیات کا ذکر جو اللہ کی راہ میں مقتول کے علاوہ شہادت کا مقام رکھتی ہیں
حدیث نمبر: 3190
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ عَتِيْكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ، فَصَاحَ بِهِ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ"، فَصَاحَتِ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ، وَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ"، قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِذَا مَاتَ"، قَالَتْ ابْنَتُهُ: وَاللَّهِ إِنِّي كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا، فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةُ؟" قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقُ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ" .
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ انہیں اپنا ہوش نہیں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلند آواز میں پکارا، تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «انا لله و انا الیه راجعون» پڑھا اور ارشاد فرمایا: اے ابوربیع! تمہارا معاملہ ہمارے بس سے باہر ہے، تو خواتین نے بلند آواز سے رونا شروع کر دیا۔ سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے انہیں خاموش کروانے کی کوشش کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں رونے دو جب وہ واجب ہو جائے، تو پھر کوئی نہ روئے۔ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! واجب ہونے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اس کا انتقال ہو جائے۔ ان کی صاحب زادی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ یہ شہید ہوں گے، کیونکہ انہوں نے اپنی تیاری مکمل کر لی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس کی نیت کے مطابق اسے اجر عطا کرے گا تم لوگ کسے شہادت شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے علاوہ بھی سات قسمیں ہیں پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیے کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے۔ طاعون سے مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، ملبے کے نیچے آ کر مرنے والا شہید ہے اور زچگی کے وقت فوت ہونے والی عورت شہید ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3190]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3180»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الأحكام» (54).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
صحيح
الرواة الحديث:
عتيك بن الحارث الأنصاري ← جبر بن عتيك الأنصاري