صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
62. باب فرض الزكاة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم ولا عبده صدقة لم يرد به كل الصدقات
زکاۃ کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اس کے غلام پر صدقہ نہیں" سے مراد تمام صدقات نہیں ہیں
حدیث نمبر: 3272
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرِيَمَ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا صَدَقَةَ عَلَى الرَّجُلِ فِي فَرَسِهِ وَعَبْدِهِ، إِلا زَكَاةَ الْفِطْرِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْعَبْدَ لا يَمْلِكُ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْجَبَ زَكَاةَ الْفِطْرِ الَّتِي تَجِبُ عَلَى الْعَبْدِ عَلَى مَالِكِهِ عَنْهُ دُونَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدمی پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی، البتہ (غلام میں) صدقہ فطر لازم ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ غلام (کسی بھی چیز کا) مالک نہیں ہوتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو غلام پر لازم قرار دیا ہے لیکن اس کی ادائیگی اس پر لازم نہیں ہے بلکہ اس کے مالک پر لازم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3272]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3261»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1420): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عراك بن مالك الغفاري ← أبو هريرة الدوسي