🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. صدقة التطوع
نفلی صدقہ کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3308
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَدْرِ النَّهَارِ، فَجَاءَ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ عَلَيْهِمْ سُيُوفٌ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغَيَّرَ لِمَا رَأَى مِنْهُمْ مِنَ الْفَاقَةِ، قَالَ: فَدَخَلَ، فَأَمَرَ بِلالا، فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَخَرَجَ، فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ سورة الحشر آية 18، يَتَصَدَّقُ امْرُؤٌ مِنْ دِينَارِهِ، وَمِنْ دِرْهَمِهِ، وَمِنْ ثَوْبِهِ، وَمِنْ صَاعِ بُرِّهِ، وَمِنْ صَاعِ شَعِيرِهِ"، حَتَّى ذَكَرَ شِقَّ تَمْرَةٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ تَعْجِزُ كَفَاهُ، بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوْمَيْنِ مِنَ الثِّيَابِ وَالطَّعَامِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهَلَّلَ حَتَّى كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَعَمِلَ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ يَعْمَلُ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، وَمَنْ سَنَّ سَنَّةً سَيِّئَةً، فَعَمِلَ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا، وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا الْخَبَرُ دَالٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا: لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 أَرَادَ بِهِ بَعْضَ الأَوْزَارِ لا الْكَلَّ، إِذْ أَخْبَرَ الْمُبَيِّنُ عَنْ مُرَادِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي كِتَابِهِ أَنَّ مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، فَعَمِلَ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، فَكَأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَالَ: لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى إِلا مَا أَخْبَرَكُمْ رَسُولِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا تَزِرُ، وَالْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُلْ ذَلِكَ، وَلا خَصَّ عُمُومَ الْخِطَابِ بِهَذَا الْقَوْلِ إِلا مِنَ اللَّهِ، شَهِدَ اللَّهُ لَهُ بِذَلِكَ، حَيْثُ قَالَ: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى سورة النجم آية 3 - 4 صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَظِيرُ هَذَا قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ سورة الأنفال آية 41، فَهَذَا خَطَّابٌ عَلَى الْعُمُومِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلا فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَأَخْبَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ السَّلَبَ لا يُخَمَّسُ، وَأَنَّ الْقَلِيلَ يَكُونُ مُنْفَرِدًا بِهِ، فَهَذَا تَخْصِيصُ بَيَانٍ لِذَلِكَ الْعُمُومِ الْمُطَلَقِ.
منذر بن جریر اپنے والد (سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ لوگ دن چڑھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کے جسم پر نامناسب لباس تھا اور پاؤں میں جوتے نہیں تھے، انہوں نے کھالیں اوڑھی ہوئی تھیں اور تلواریں لٹکائی ہوئی تھیں، ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق مُضَر قبیلے سے تھا بلکہ ان سب کا تعلق مُضَر قبیلے سے تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فقر و فاقہ ملاحظہ فرمایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر مجھے نظر آئی۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی پھر انہوں نے اقامت کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ارشادِ باری تعالیٰ ہے:) ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] اے لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے اور اس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا اور پھر ان دونوں سے بہت زیادہ مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا، اس اللہ سے ڈرو جس کے وسیلے سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتہ داری کا خیال رکھو، بے شک اللہ تعالیٰ تمہارا نگران ہے۔ (ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:) ﴿اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [سورة الحشر: 18] اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ہر شخص اس بات کا جائزہ لے کہ اس نے آگے کے لیے کیا بھیجا ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:) آدمی اپنے دینار میں سے، اپنے درہم میں سے، اپنے کپڑے میں سے، گندم کا ایک صاع، جو کا ایک صاع صدقہ کرے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف کھجور کا تذکرہ کیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایک تھیلی لے کر آیا جسے وہ بمشکل اٹھا رہا تھا بلکہ وہ اس سے اٹھائی نہیں جا رہی تھی، پھر لوگ یکے بعد دیگرے چیزیں لانے لگے، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کپڑوں اور اناج کے دو ڈھیر دیکھے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ وہ سونے کی طرح دمک رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اسلام میں کسی اچھے طریقے کا آغاز کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اس شخص کو اس اچھے کام کا بھی اجر ملے گا اور اس کے بعد جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان کا سا بھی اجر ملے گا، اور جو شخص کسی برے طریقے کا آغاز کرے اور اس کے بعد اس برے طریقے پر عمل کیا جائے، تو اسے اپنے برے عمل کا بھی گناہ ہوگا اور اس کے بعد جو لوگ اس برائی پر عمل کریں گے ان کا بھی اسے گناہ ہوگا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اس سے مراد بعض قسم کا بوجھ ہے، تمام اقسام کے بوجھ مراد نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مراد کو بیان کرنے والی شخصیت (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ بات بتائی ہے کہ جو شخص اسلام میں برے طریقے کا آغاز کرتا ہے اور پھر اس کے بعد اس طریقے پر عمل کیا جاتا ہے، تو اس برائی کا بوجھ اس شخص پر بھی ہوگا۔ اس کے بعد جو شخص اس برائی پر عمل کرے گا اس کا بوجھ بھی اس شخص پر ہوگا، تو گویا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، ماسوائے اس کے جس کے بارے میں میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ اطلاع دے دی ہے کہ وہ بوجھ اٹھائے گا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ارشاد فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطاب کے عموم کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت مخصوص کیا ہے۔ اس بات کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى * إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴾ [سورة النجم: 3-4] یہ رسول اپنی خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتا، یہ صرف وہی کلام کرتا ہے جو اس کی طرف وحی کیا جاتا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] تم لوگ یہ بات جان لو کہ تم جو بھی غنیمت حاصل کرو گے اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگا۔ تو یہ خطاب عمومی طور پر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو اس مقتول کا سامان اس شخص کو مل جائے گا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں یہ اطلاع دی ہے کہ مقتول کے جسم پر موجود سامان مالِ خمس میں شامل نہیں ہوگا اور تھوڑا مال بھی اسی (قاتل) کو ملے گا، تو یہ اس مطلق عمومی حکم کی تخصیص ہو جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3308]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 989، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2341، 2477، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3308، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2459، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1589، والترمذي فى (جامعه) برقم: 647، 648، 2675، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 203، 1802، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7472، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19463» «رقم طبعة با وزير 3297»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (224 - 226)، «التعليق الرغيب» (1/ 47): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جرير بن عبد الله البجلي، أبو عبد الله، أبو عمروصحابي
👤←👥المنذر بن جرير البجلي
Newالمنذر بن جرير البجلي ← جرير بن عبد الله البجلي
ثقة
👤←👥عون بن أبي جحيفة السوائي
Newعون بن أبي جحيفة السوائي ← المنذر بن جرير البجلي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عون بن أبي جحيفة السوائي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← هشام بن عبد الملك الباهلي
ثقة ثبت
Sahih Ibn Hibban Hadith 3308 in Urdu