صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
127. صدقة التطوع - ذكر الأمر للمتصدق أن يؤثر بصدقته قرابته دون غيرهم
نفلی صدقہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ متصدق اپنے صدقہ کو اپنی قرابت پر دوسروں کے مقابلے میں ترجیح دے
حدیث نمبر: 3340
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالا، وَكَانَ أَحَبَّ أَمُوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَاءُ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمُوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَاءُ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَخٍ، ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ، بَخٍ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ" ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی زمینیں انصار میں سب سے زیادہ تھیں اور ان کے نزدیک ان کی سب سے پسندیدہ ملکیت ”بیرحاء“ نامی باغ تھا جو مسجد کے بالکل مد مقابل تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں تشریف لایا کرتے تھے اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ”تم لوگ اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ”تم لوگ اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو۔“ میرے نزدیک میرا سب سے پسندیدہ مال ”بیرحاء“ ہے یہ اللہ کے لیے صدقہ ہے میں اس کے اجر و ثواب کااللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں امیدوار ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں اسے خرچ کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہت عمدہ یہ فائدہ بخش مال ہے بہت عمدہ یہ فائدہ بخش مال ہے تم نے اس کے بارے میں جو کہا: میں نے وہ سن لیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے رشتے داروں میں بانٹ دو۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسا ہی کروں گا (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:)، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قریبی رشتے داروں اور اپنے چچا زاد بھائیوں میں اسے تقسیم کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3340]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3329»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري