صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
8. باب فضل الصوم - ذكر البيان بأن فم الصائم يكون أطيب عند الله من ريح المسك يوم القيامة
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ صائم کا منہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3423
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ كُوفِيٌّ ثَبْتٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلا الصِّيَامَ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطِيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: إِذَا أَفْطَرَ، فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ، فَرِحَ بِصَوْمِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: شِعَارُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْقِيَامَةِ التَّحْجِيلُ بِوُضُوئِهِمْ فِي الدُّنِيَا فَرَقًا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ سَائِرِ الأُمَمِ، وَشِعَارُهُمْ فِي الْقِيَامَةِ بِصَوْمِهِمْ طِيبُ خُلُوفِهِمْ أَطِيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ لِيُعْرَفُوا بَيْنَ ذَلِكَ الْجَمْعِ بِذَلِكَ الْعَمَلِ، نَسْأَلُ اللَّهَ بَرَكَةَ ذَلِكَ الِيَوْمِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار شخص کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی۔ روزہ دار شخص کو دو خوشیاں نصیب ہوں گی ایک جب وہ افطاری کرے گا، تو افطاری کرنے کی وجہ سے اسے خوشی ہو گی اور ایک جب وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اپنے روزہ رکھنے کی وجہ سے خوش ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): قیامت کے دن اہل ایمان کا مخصوص علامتی نشان دنیا میں ان کے کیے گئے وضو کی چمک ہو گی جس کی وجہ ان کے اور دیگر تمام امتوں کے درمیان امتیاز کیا جا سکے گا اور قیامت کے دن ان کا مخصوص نشان ان کے روزے کی وجہ سے ان کے منہ سے آنے والی بو ہو گی جو مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی تاکہ وہ اپنے عمل کے نتیجے میں میدان محشر میں سب لوگوں کے درمیان پہچانے جائیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس دن کی برکت کا سوال کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3423]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3414»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي