صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
104. باب الكفارة - ذكر البيان بأن المجامع في شهر رمضان إذا أراد الإطعام له أن يعطى ستين مسكينا لكل مسكين ربع الصاع وهو المد
کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ رمضان میں جماع کرنے والے کو اگر کھانا کھلانا ہو تو اسے ساٹھ مسکینوں کو ہر ایک کو چوتھائی صاع یعنی مد دینا ہو گا
حدیث نمبر: 3526
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتُ، قَالَ:" وَيْحَكَ، وَمَا ذَاكَ؟"، قَالَ: وَقَعَتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً"، قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ:" فَتَصَدَّقْ بِهِ"، قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي!، مَا بَيْنَ لابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحُوَجُ مِنْ أَهْلِي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنِيَابُهُ، وَقَالَ:" خُذْهُ وَاسْتَغْفَرِ اللَّهَ، وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! کیا ہوا ہے؟“ اس نے جواب دیا: میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم غلام آزاد کرو۔“ اس نے جواب دیا: میرے پاس نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔“ اس نے جواب دیا: میں یہ نہیں کر سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے جواب دیا: میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پندرہ صاع کھجوروں کا ٹوکرا پیش کیا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے صدقہ کر دو۔“ اس نے جواب دیا: کیا میں اپنے گھر والوں سے زیادہ غریب لوگوں پر یہ صدقہ کروں؟ پورے شہر میں ہمارے گھر سے زیادہ ضرورت مند کوئی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے لو، اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور یہ اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3526]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1936، 1937، 2600، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1111، وابن الجارود فى "المنتقى"، 421، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1943، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3523، 3524، 3525، 3526، 3527، 3529، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2390، والترمذي فى (جامعه) برقم: 724، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1671، 1671 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8136، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2303، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7063» «رقم طبعة با وزير 3517»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2070).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3526 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي