صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
122. باب قبلة الصائم - ذكر الإباحة للرجل الصائم تقبيل امرأته ما لم يكن وراءه شيء يكرهه
روزہ دار کی قبلہ کے حوالے سے بات - اس بات کی اجازت کہ روزہ دار مرد اپنی بیوی کو بوسہ دے جب تک کہ اس کے بعد کوئی ناپسندیدہ چیز نہ ہو
حدیث نمبر: 3544
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: هَشَشْتُ، فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: لَقَدْ صَنَعْتُ الِيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا، قَالَ:" وَمَا هُوَ؟"، قُلْتُ: قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ؟"، قُلْتُ: إِذًا لا يَضُرُّ؟ قَالَ:" فَفِيمَ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میرے مزاج میں شوخی آئی، تو میں نے روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کا) بوسہ لے لیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: آج میں نے ایک بڑا جرم کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیا۔ میں نے جواب دیا: میں نے روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کا) بوسہ لے لیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر تم پانی کی کلی کر لو (تو روزے کو کیا ہو گا) میں نے جواب دیا: اس صورت میں کوئی نقصان نہیں ہو گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس صورت میں کیسے ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3544]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3536»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2064).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الملك بن سعيد الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري