یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
165. فصل في صوم يوم الشك - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن الصوم في النصف الأخير من شعبان
روزہ شک کے دن کے بیان میں فصل - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر شعبان کے آخری نصف میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 3590
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي الِيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَتَدْنُوَنَّ، قُلْتُ: فَحَدِّثْنِي، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالاً، صُومُوا لِرُؤِيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤِيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ غَبَرَةُ سَحَابٍ، أَوْ قَتَرَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ" .
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں یہ شک تھا کہ کیا یہ رمضان کا دن ہے وہ اس دن کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: آگے آؤ اور کھانا کھاؤ میں نے کہا: میں نے، تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم ضرور آگے آؤ گے۔ میں نے کہا: پھر آپ (اس بارے میں) مجھے کوئی حدیث بیان کریں، تو انہوں نے بتایا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(رمضان کے) مہینے سے پہلے اس کا استقبال نہ کرو (یعنی اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو) اس کو (یعنی پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کرو اگر تمہارے درمیان اور اس (چاند) کے درمیان بادل کی رکاوٹ آ جائے، یا (چاند کو دیکھنے میں) دشواری ہو تو تم تیس کی تعداد کو پورا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3590]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1003، وابن الجارود فى "المنتقى"، 412، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3590، 3594، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1552، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2327، والترمذي فى (جامعه) برقم: 688، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8043، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1956» «رقم طبعة با وزير 3582»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2016).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3590 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي