صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
56. باب فضل المدينة - ذكر أمر الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم أن يدعو لأهل البقيع
مدینہ کے فضائل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے صفی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ بقیع کے لوگوں کے لیے دعا کریں
حدیث نمبر: 3748
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَبِسَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ خَرَجَ، قَالَتْ: فَأَمَرْتُ بَرِيرَةَ جَارِيَتِي تَتْبَعُهُ، فَتَبِعَتْهُ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعُ، فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ، فَأَخْبَرَتْنِي، فَلَمْ أَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، ثُمَّ إِنِّي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنِّي بُعِثْتُ لأَهْلِ الْبَقِيعِ لأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ نے کپڑے پہنے (یعنی چادر اوڑھی) اور باہر تشریف لے گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنی کنیز بریرہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جانے کی ہدایت کی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع تشریف لائے وہاں جتنا اللہ کو منظور تھا آپ ٹھہرے رہے۔ پھر آپ واپس تشریف لے گئے، تو بریرہ آپ سے پہلے آ گئی۔ اس نے مجھے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، تو میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا، تاکہ میں ان کے لیے دعاء رحمت کروں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3748]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3740»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف الإسناد.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
مرجانة المدنية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق