پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
115. باب دخول مكة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر ابن عباس الذي ذكرناه
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ابن عباس کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 3813
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" رَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ ثَلاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا"، كَذَلِكَ قَالَهُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ أَصْحَابِهِ عَنْهُ، عَنْ جَابِرٍ، وَاخْتَصَرَ مَالِكٌ الْخَبَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ رَمَلَ ثَلاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، فَكَانَ الرَّمَلُ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ، وَهِيَ أَنْ يَرَاهُمُ الْمُشْرِكُونَ جُلَدَاءَ، لا ضَعْفَ بِهِمْ، فَارْتَفَعَتْ هَذِهِ الْعِلَّةُ، وَبَقِيَ الرَّمَلُ فَرِضَا عَلَى أُمَّةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد کا (امام محمد باقر رحمہ اللہ) حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر سے لے کر حجر تک رمل کیا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ بیت اللہ کا رمل کیا چار مرتبہ عام رفتار سے چلے۔ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں یہ بات اسی طرح نقل کی ہے، جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جیسا کہ ان کے شاگردوں نے اسے نقل کیا ہے۔ جب کہ امام مالک نے اس روایت کو مختصر طور پر نقل کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات نقل نہیں کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین چکروں میں بھاگ کر چلے تھے اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے تھے تو یہ رمل کسی متعین علت کی وجہ سے تھا اور وہ علت یہ تھی کہ مشرکین ان لوگوں کو دیکھ لیں کہ وہ تندرست لوگ ہیں ان میں کمزوری نہیں ہے جب یہ علت ختم ہو گئی تو علت کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے قیامت کے دن تک فرض کے طور پر باقی رہ گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3813]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، 856، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، 1074، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942» «رقم طبعة با وزير 3802»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض» (212)، «حجة النبي صلى الله عليه وسلم» (57): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3813 in Urdu
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري