🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

115. باب دخول مكة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر ابن عباس الذي ذكرناه
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ابن عباس کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3813
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" رَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ ثَلاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا"، كَذَلِكَ قَالَهُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ أَصْحَابِهِ عَنْهُ، عَنْ جَابِرٍ، وَاخْتَصَرَ مَالِكٌ الْخَبَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ رَمَلَ ثَلاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، فَكَانَ الرَّمَلُ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ، وَهِيَ أَنْ يَرَاهُمُ الْمُشْرِكُونَ جُلَدَاءَ، لا ضَعْفَ بِهِمْ، فَارْتَفَعَتْ هَذِهِ الْعِلَّةُ، وَبَقِيَ الرَّمَلُ فَرِضَا عَلَى أُمَّةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد کا (امام محمد باقر رحمہ اللہ) حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر سے لے کر حجر تک رمل کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ بیت اللہ کا رمل کیا چار مرتبہ عام رفتار سے چلے۔ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں یہ بات اسی طرح نقل کی ہے، جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جیسا کہ ان کے شاگردوں نے اسے نقل کیا ہے۔ جب کہ امام مالک نے اس روایت کو مختصر طور پر نقل کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات نقل نہیں کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین چکروں میں بھاگ کر چلے تھے اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے تھے تو یہ رمل کسی متعین علت کی وجہ سے تھا اور وہ علت یہ تھی کہ مشرکین ان لوگوں کو دیکھ لیں کہ وہ تندرست لوگ ہیں ان میں کمزوری نہیں ہے جب یہ علت ختم ہو گئی تو علت کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے قیامت کے دن تک فرض کے طور پر باقی رہ گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3813]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3802»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض» (212)، «حجة النبي صلى الله عليه وسلم» (57): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3814
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ:" إِنَّ قَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ، فَلَيَرَوْنَكُمْ جُلَدَاءَ"، فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ، ثُمَّ رَمَلُوا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، حَتَّى إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الأَسْوَدِ، ثُمَّ رَمَلُوا حَتَّى بَلَغُوا الرُّكْنَ، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَشَى الأَرْبَعَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے بعد عمرہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب مکہ میں داخل ہونے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: لوگ کل تمہیں دیکھیں، تو تمہیں مضبوط دیکھیں جب یہ لوگ مسجد میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا پھر انہوں نے رمل کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ یہ لوگ رکن یمانی تک پہنچے، تو عام رفتار سے چلتے ہوئے حجر اسود تک آئے پھر بھاگنے لگے جب رکن یمانی تک پہنچے (تو پھر عام رفتار سے چلنے لگے) ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا (جبکہ باقی کے) چار طوافوں میں عام رفتار سے چلتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3814]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3803»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1651).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں