صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
116. باب دخول مكة - ذكر الخبر الدال على أن الحجر من البيت
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ حجر بیت اللہ کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 3815
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوَا الْكَعْبَةَ، اقْتَصَرُوا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟، قَالَ:" لَوْلا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ" ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلامِ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يَتِمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَفْظَةً، ظَاهِرُهَا التَّوَقُّفُ عَنْ صِحَّتِهَا مُرَادُهَا ابْتِدَاءَ إِخْبَارٍ عَنْ شَيْءٍ يَأْتِي بِتَيَقُّنِ شَيْءٍ مَاضٍ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے اس بات کا جائزہ نہیں لیا کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !، تو آپ اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر لوٹا کیوں نہیں دیتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تمہاری قوم زمانہ کفر کے اتنا قریب نہ ہوتی (تو میں ایسا کر دیتا) راوی بیان کرتے ہیں: اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ فرمایا: اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے، تو میرا خیال ہے اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کی طرف والے دو رکنوں کے استلام کو ترک کر دیا تھا، کیونکہ بیت اللہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل تعمیر نہیں ہوا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول ”اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے“ ان الفاظ سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ اس روایت کے بارے میں توقف کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ اس سے مراد ہے کہ وہ ایک چیز کے بارے میں اطلاع کا آغاز کر رہے ہیں جو اس سے پہلے یقینی طور پر آ چکی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3815]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3804»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (81)، «الصحيحة» (43): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمر العدوي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق