صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
113. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر تفضل الله جل وعلا على من هم بحسنة بكتبها له وإن لم يعملها وبكتبه عشرة أمثالها إذا عملها
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اللہ جل وعلا کے اس فضل کا ذکر کہ جو بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو اسے نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور جب وہ اسے کر لے تو دس گنا اجر دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 383
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: عنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِالْحَسَنَةِ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا، كَتَبْتُهَا لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَإِنْ هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا، لَمْ أَكْتُبْهَا عَلَيْهِ، فَإِنْ عَمِلَهَا، كَتَبْتُهَا وَاحِدَةً" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا:" إِذَا هَمَّ عَبْدِي" أَرَادَ بِهِ إِذَا عَزَمَ، فَسَمَّى الْعَزْمَ هَمًّا، لأَنَّ الْعَزْمَ نِهَايَةُ الْهَمِّ، وَالْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا تُطْلِقُ اسْمَ الْبَدَاءَةِ عَلَى النِّهَايَةِ، وَاسْمَ النِّهَايَةِ عَلَى الْبَدَاءَةِ، لأَنَّ الْهَمَّ لا يُكْتَبُ عَلَى الْمَرْءِ، لأَنَّهُ خَاطِرٌ لا حُكْمَ لَهُ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ يَكْتُبُ لِمَنْ هَمَّ بِالْحَسَنَةِ الْحَسَنَةَ، وَإِنْ لَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِ وَلا عَمِلَهُ لِفَضْلِ الإِسْلامِ، فَتَوْفِيقُ اللَّهِ الْعَبْدَ لِلإِسْلامِ فَضْلٌ تَفَضَّلَ بِهِ عَلَيْهِ، وَكِتْبَتُهُ مَا هَمَّ بِهِ مِنَ الْحَسَنَاتِ وَلَمَّا يَعْمَلْهَا فَضْلٌ، وَكِتْبَتُهُ مَا هَمَّ بِهِ مِنَ السَّيِّئَاتِ وَلَمَّا يَعْمَلْهَا لَوْ كَتَبَهَا، لَكَانَ عَدْلا، وَفَضْلُهُ قَدْ سَبَقَ عَدْلَهُ، كَمَا أَنَّ رَحْمَتَهُ سَبَقَتْ غَضَبَهُ، فَمِنْ فَضْلِهِ وَرَحْمَتِهِ مَا لَمْ يُكْتَبْ عَلَى صِبْيَانِ الْمُسْلِمِينَ مَا يَعْمَلُونَ مِنْ سَيِّئَةٍ قَبْلَ الْبُلُوغِ، وَكَتَبَ لَهُمْ مَا يَعْمَلُونَهُ مِنْ حَسَنَةٍ، كَذَلِكَ هَذَا وَلا فَرْقَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے، جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا، تو میں اسے ایک نیکی کے طور پر نوٹ کر لیتا ہوں اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے، تو میں اسے دس نیکیوں کے طور پر نوٹ کر لیتا ہوں اور اگر میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کر لیتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا، تو میں اسے نوٹ نہیں کرتا، اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے، تو میں اسے ایک (برائی) کے طور پر نوٹ کرتا ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ”جب میرا بندہ ارادہ کرتا ہے“، اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ عزم کرتا ہے، تو یہاں عزم کے لیے لفظ «هَمَّ» ”ہَم“ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ «هَمٌّ» ”ہَم“ کی انتہا عزم ہے، اور عرب اپنے محاورے میں کسی ابتدا والے اسم کا اطلاق انتہا پر کر دیتے ہیں، اور انتہا والے اسم کا اطلاق آغاز پر کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ارادہ کرنا آدمی کے نامہ اعمال میں نہیں لکھا جاتا، کیونکہ وہ صرف ایک خیال ہے، اس کا کوئی حکم نہیں ہو گا۔ اور اس میں اس بات کا احتمال بھی موجود ہے کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی لکھ لیتا ہے، اگرچہ اس نے اس کا پختہ ارادہ نہ کیا ہو اور اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اسلام کی فضیلت کی وجہ سے ایسا کر دیتا ہو، تو اللہ تعالیٰ کا بندے کو اسلام کی توفیق دینا ایک فضل ہے، جو اس نے اپنے بندے پر کیا ہے، اور بندہ جس نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا ہے، اس کو نوٹ کر لینا بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہو گا، اور بندہ جس برائی کا ارادہ کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا، تو اگر اللہ تعالیٰ اسے نوٹ کر لیتا ہے، تو یہ انصاف کے مطابق ہو گا۔ لیکن کیونکہ اس کا فضل اس کے انصاف سے آگے نکل گیا ہے، اس طرح اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے، تو اس کے فضل اور اس کی رحمت میں یہ بات شامل ہے کہ مسلمانوں کے کمسن بچے، جب تک بالغ نہیں ہو جاتے اس وقت تک ان کا کوئی گناہ نوٹ نہ کیا جائے، اور ان کی نیکیاں نوٹ کی جائیں۔ تو یہ اسی طرح ہو گا، اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 383]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 42، 7501، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 128، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 379، 380، 381، 228، 382، 383، 384، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11117، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3073، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7316» «رقم طبعة با وزير 384»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. القعنبي: هو عبد الله بن مسلمة.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 383 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي