صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
139. باب السعي بين الصفا والمروة - ذكر الخبر الدال على أن السعي بين الصفا والمروة فريضة لا يجوز تركه
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان سعي فرض ہے، اسے ترک کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 3840
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهَا: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَلا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّ هَذِهِ الآيَةَ لَوْ كَانَتْ عَلَى مَا أَوَّلْتُهَا عَلَيْهِ، كَانَتْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، وَلَكِنَّهَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِي الأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ، عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا أَسْلَمُوا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنَّ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158"، قَالَتْ عَائِشَةُ:" قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا، فَلَيْسَ لأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا" ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمَ أَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ بِالَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ هَذَا لَعِلْمٌ، وَإِنِّي مَا كُنْتُ سَمِعْتُهُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّاسَ إِلا مَنْ ذَكَرْتِ عَائِشَةُ مِمَّنْ كَانَ يُهِلُّ لِمَنَاةَ، كَانُوا يَطُوفُونَ كُلُّهُمْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا ذَكَرَ اللَّهُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الطَّوَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ، أَوِ اعْتَمَرَ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فأَسْمَعُ، هَذِهِ نَزَلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا فِي الَّذِينَ كَانُوا يَتَحَرَّجُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ تَحَرَّجُوا أَنْ يَطَّوَّفُوا بِهِمَا فِي الإِسْلامِ مِنْ أَجْلِ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَذْكُرُهُمَا حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ بَعْدَمَا ذَكَرَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ.
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرتا ہے یا عمرہ کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے“ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ان دونوں کا طواف نہیں کرتا تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ایسا ہرگز نہیں ہے، اگر اس طرح ہوتا جس طرح تم بیان کر رہے ہو تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی: ”اس شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے جو ان کا طواف نہ کرے“۔ (پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی) یہ آیت کچھ انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو مناۃ (نامی بت) کا احرام باندھتے تھے، وہ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، جب اسلام آیا تو لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے اور جو شخص نفلی طور پر نیکی کرتا ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ شکر قبول کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے“ نازل فرمائی۔“ عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] (یہ آیت آخر تک ہے) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم! ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جو صفا اور مروہ کا طواف نہیں کرتا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! تم نے بہت غلط بات کہی ہے، اس آیت سے اگر وہ مراد ہوتی جو تم بیان کر رہے ہو تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی: ”تو ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے“، درحقیقت یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو اسلام قبول کرنے سے پہلے مناۃ طاغیہ کے نام کا احرام باندھتے تھے، یہ لوگ مشلل کے قریب اس کی عبادت کیا کرتے تھے، جو شخص اس کے نام کا احرام باندھتا تھا وہ اس بات کو گناہ سمجھتا تھا کہ صفا اور مروہ کا طواف کرے، جب لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ صفا اور مروہ کا طواف کرنے کو گناہ سمجھتے تھے“، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے“ نازل فرمائی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے طواف کو سنت قرار دیا، تو اب کسی شخص کے لیے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ان دونوں کے طواف کو ترک کرے۔“ زہری کہتے ہیں: میں اس روایت کو لے کر ابوبکر بن عبدالرحمن کے پاس گیا، وہ روایت جو عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مجھے بیان کی تھی، ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا: ”یہ واقعی علم ہے، میں نے یہ بات پہلے نہیں سنی ہوئی تھی، میں نے پہلے کچھ اہل علم کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا تھا کہ پہلے سب لوگ صفا اور مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، ماسوائے ان لوگوں کے جن کا ذکر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا ہے جو مناۃ کے نام کا قربانی کا جانور لے کر جاتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا اور مروہ کے طواف کا ذکر نہیں کیا (تو اس بارے میں لوگوں کو الجھن ہوئی) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے“ نازل فرمائی۔“ ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا: ”تو میں نے یہ سنا کہ یہ آیت دونوں فریقوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ان لوگوں کے بارے میں جو زمانہ جاہلیت میں صفا اور مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، تو انہوں نے اسلام میں ان دونوں کے طواف کو گناہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا ہے اور صفا و مروہ کا اس میں ذکر نہیں کیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ نے صرف بیت اللہ کا طواف کرنے کا ذکر کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3840]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1643، 1790، 4495، 4861، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1277، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2766، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1381، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3839، 3840، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3087، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2967، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1901، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2965، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2986، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9452، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25752، والحميدي فى (مسنده) برقم: 221» «رقم طبعة با وزير 3829»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص عمرو بن عثمان القرشي ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة | |
👤←👥محمد بن عبيد الله الكلاعي، أبو الحسين محمد بن عبيد الله الكلاعي ← عمرو بن عثمان القرشي | انفرد بتوثيقه ابن حبان |
Sahih Ibn Hibban Hadith 3840 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق