یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
280. باب الحج والاعتمار عن الغير - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم الحج على من وجبت عليه بالدين إذا كان عليه
دوسروں کی طرف سے حج و عمرہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو اس شخص کے لیے قرض کی طرح قرار دیا جس پر فریضہ واجب ہو
حدیث نمبر: 3990
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنْ رَجُلا سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ عَنْ أُمِّهَا، قَالَ سُلَيْمَانُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنْ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي دَخَلٍ فِي الإِسْلامِ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَإِنْ أَنَا شَدَدْتُهُ عَلَى رَاحِلَتِي خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهُ، وَإِنْ لَمْ أَشُدَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عَلَيْهَا، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ" .
یحیی بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سلیمان بن یسار سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا: جو اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کرتی ہے، تو سلیمان نے جواب دیا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد نے جب اسلام قبول کیا اس وقت وہ بوڑھے عمر رسیدہ ہو چکے تھے اگر میں انہیں سواری پر باندھ دیتا ہوں، تو مجھے ڈر ہے وہ فوت ہو جائیں گے اور اگر انہیں باندھتا نہیں ہوں تو وہ اس پر بیٹھ نہیں سکیں گے کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہوتا اور تم ان کی طرف سے اس کو ادا کر دیتے، تو کیا وہ ادا ہو جاتا؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں قیاس کرنے کی اجازت ہونے کی دلیل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3990]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1513، 1852، 1853، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1334، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1317، وابن الجارود فى "المنتقى"، 546، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3989، 3990، 3992، 3993، 3994، 3995، 3996، 3997، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2633، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2904، 2907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8717، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2609، 2612، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1837» «رقم طبعة با وزير 3979»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح؛ لكن قوله: رجلاً سأل ... شاذ، والمحفوظ في هذه القصة أن السائل: امرأة؛ كما في الذي قبله - «الإرواء» (993).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال مسلم غير إبراهيم بن الحجاج السامي
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3990 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← عبد الله بن العباس القرشي