پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
282. باب الحج والاعتمار عن الغير - ذكر الإخبار عن جواز حج الرجل عن المتوفى الذي كان الفرض عليه واجبا
دوسروں کی طرف سے حج و عمرہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ فوت شدہ شخص کے لیے حج کرنا جائز ہے جس پر فریضہ واجب تھا
حدیث نمبر: 3992
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنْ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، أَفَأَحُجَّ عَنْهُ؟، قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے انہوں نے حج نہیں کیا تھا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کر دیتے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3992]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1513، 1852، 1853، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1334، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1317، وابن الجارود فى "المنتقى"، 546، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3989، 3990، 3992، 3993، 3994، 3995، 3996، 3997، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2633، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2904، 2907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8717، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2609، 2612، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1837» «رقم طبعة با وزير 3981»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3047). * [حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ] قال الشيخ: تابعه يحيى بن خالد الرَّقِّي عند الطبراني (12/ 15 / 12332)، وعبد الله بن جعفر الرَّقِّي في «المشكل» (3/ 221).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3992 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي