🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. - ذكر ما يستحب للمرء عند التزويج أن يطلب الدين دون المال في العقد على ولده أو على نفسه
- ذکر اس بات کا کہ شادی کے وقت انسان کے لیے مستحب ہے کہ وہ دین کو ترجیح دے نہ کہ مال کو، جب وہ اپنے بچے یا خود کے لیے عقد کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4035
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ : أَنَّ جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ، وَيُتَحَدَّثُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ أَبُو بَرْزَةَ: فَقُلْتُ لامْرَأَتِي لا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ جُلَيْبِيبٌ، قَالَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ لأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ لَمْ يُزَوِّجْهَا حَتَّى يَعْلَمَ أَلِرَسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا حَاجَةٌ أَمْ لا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ:" يَا فُلانُ، زَوَّجَنِي ابْنَتَكَ"، قَالَ: نَعَمْ وَنُعْمَى عَيْنٍ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ لِنَفْسِي أُرِيدُهَا"، قَالَ: فَلِمَنْ؟، قَالَ:" لِجُلَيْبِيبٍ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا، فَأَتَاهَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ابْنَتَكِ، قَالَتْ: نَعَمْ وَنُعْمَى عَيْنٍ، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَتْ لِنَفْسِهِ يُرِيدُهَا، قَالَتْ: فَلِمَنْ يُرِيدُهَا؟، قَالَ: لِجُلَيْبِيبٍ، قَالَتْ: حَلْقِي أَلِجُلَيْبِيبٍ!، قَالَتْ: لا لَعَمْرُ اللَّهِ، لا أُزَوِّجُ جُلَيْبِيبًا، فَلَمَّا قَامَ أَبُوهَا لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتِ الْفَتَاةُ مِنْ خِدْرِهَا لأُمِّهَا: مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمَا، قَالا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَمْرَهُ، ادْفَعُونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ لَنْ يُضَيِّعَنِي، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَأْنُكَ بِهَا، فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا" ، قَالَ حَمَّادٌ: قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ: هَلْ تَدْرِي مَا دَعَا لَهَا بِهِ؟، قَالَ: وَمَا دَعَا لَهَا بِهِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ صَبَّ الْخَيْرَ عَلَيْهِمَا صَبًّا، وَلا تَجْعَلْ عَيْشَهُمَا كَدًّا". قَالَ قَالَ ثَابِتٌ : فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، قَالَ:" تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟"، قَالُوا: لا، قَالَ:" لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا، فَاطْلُبُوهُ فِي الْقَتْلَى"، فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ، قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَتَلَ سَبْعَةً، ثُمَّ قَتَلُوهُ?!، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ"، يَقُولُهَا سَبْعًا، فَوَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَاعِدَيْهِ، مَا لَهُ سَرِيرٌ إِلا سَاعِدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى وَضَعَهُ فِي قَبْرِهِ ، قَالَ ثَابِتٌ: وَمَا كَانَ فِي الأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا.
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جلیبیب ایک انصاری تھا وہ خواتین کے ہاں جایا کرتا تھا اور ان کے ساتھ بات چیت کیا کرتا تھا سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنی بیوی سے کہا: جلیبیب تمہارے پاس نہ آئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے ہاں کی خواتین میں سے کوئی بیوہ یا طلاق یافتہ ہو جاتی، تو وہ اس خاتون کی آگے شادی اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک یہ بات نہیں جان لیتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتے؟ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری سے کہا: اے فلاں شخص تم اپنی بیٹی کی شادی کروا دو۔ اس نے عرض کی: جی ہاں! سر آنکھوں پر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں خود اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتا۔ اس انصاری نے دریافت کیا: پھر کس کے ساتھ کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلیبیب کے ساتھ۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (آپ مجھے موقع دیں) تاکہ میں لڑکی کی ماں کے ساتھ مشورہ کر لوں، پھر وہ شخص اس عورت کے پاس آیا اور یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری بیٹی کیلئے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے، اس عورت نے کہا: ٹھیک ہے سر آنکھوں پر۔ اس شخص نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے پیغام نہیں دیا: تو عورت نے دریافت کیا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کے لیے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے؟ اس شخص نے بتایا: جلیبیب کیلئے۔ اس عورت نے کہا: اس نالائق جلیبیب کیلئے، پھر اس عورت نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! میں جلیبیب کے ساتھ (اپنی بیٹی کی) شادی نہیں کروں گی۔ جب لڑکی کا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے کیلئے اٹھنے لگا، تو لڑکی نے پردے کے پیچھے سے اپنی ماں سے کہا: میری شادی کے بارے میں آپ کو نکاح کا پیغام کس نے بھجوایا ہے؟ ان دونوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول نے، اس لڑکی نے دریافت کیا: تو کیا آپ لوگ اللہ کے رسول کے حکم پر عمل نہیں کریں گے، آپ مجھے اللہ کے رسول کے سپرد کر دیں، وہ مجھے ضائع نہیں کریں گے، پھر اس بچی کا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: اس بچی کا معاملہ آپ کے سپرد ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کی شادی جلیبیب سے کروا دی۔ حماد نامی راوی کہتے ہیں: اسحاق بن عبداللہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: کیا تم جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کیلئے کیا دعا کی تھی۔ راوی نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے کیا دعا کی تھی، تو اسحاق نے بتایا: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی) اے اللہ! ان دونوں پر بھلائی کو اچھی طرح انڈیل دے اور ان کی زندگی میں کوئی سختی نہ آنے دینا۔ یہاں ثابت نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کی شادی ان صاحب سے کروا دی ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں حصہ لینے کیلئے تشریف لے گئے تو آپ نے دریافت کیا: کیا تم کسی کو غیر موجود پاتے ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن مجھے جلیبیب غیر موجود محسوس ہو رہا ہے، تو تم لوگ مقتولین میں اسے تلاش کرو، تو ان لوگوں نے جلیبیب کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ سات مشرکین کے پاس موجود تھے انہوں نے ان سات مشرکین کو قتل کیا تھا اور پھر خود شہید ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا ہے اور پھر خود شہید ہوا ہے، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا ان کی چارپائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف بازو ہی تھے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خود ان کی قبر میں اتارا۔ ثابت نامی راوی بیان کرتے ہیں: انصار میں کوئی بیوہ عورت ایسی نہیں تھی جو اس (جلیبیب کی اہلیہ) سے زیادہ خرچ کرنے والی ہو (یعنی ان سے زیادہ مال دار ہو) [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4035]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4024»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 73).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمدثقة
👤←👥نضلة بن عمرو الأسلمي، أبو برزة
Newنضلة بن عمرو الأسلمي ← ثابت بن أسلم البناني
صحابي
👤←👥كنانة بن نعيم العدوي، أبو بكر
Newكنانة بن نعيم العدوي ← نضلة بن عمرو الأسلمي
ثقة
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← كنانة بن نعيم العدوي
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥إبراهيم بن الحجاج السامي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن الحجاج السامي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← إبراهيم بن الحجاج السامي
ثقة مأمون