صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
45. - باب الولي - ذكر الزجر عن أن يزوج الولي المرأة بغير صداق عدل يكون بينهما
ولی کے بیان کا باب - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ ولی عورت کا نکاح بغیر عادلانہ صداق کے کرے جو دونوں کے درمیان ہو
حدیث نمبر: 4073
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3، قَالَتْ:" يَا ابْنَ أُخْتِي، هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا، وَجَمَالُهَا، فَيُرِيدُ وَلِيِّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيَهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ مَهْرًا أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ"، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ فِيهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127"، قَالَتْ:" وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الآيَةِ الأُولَى الَّتِي، قَالَ فِيهَا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3"، قَالَتْ عَائِشَةُ:" وَقَالَ اللَّهُ فِي الآيَةِ الأُخْرَى رَغْبَةَ أَحَدُكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي فِي حِجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ، وَالْجَمَالِ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا، وَجَمَالِهَا مِنَ النِّسَاءِ إِلا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ" .
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ [سورة النساء: 3] کے بارے میں دریافت کیا: ”اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو تم ان خواتین کے ساتھ شادی کر لو جو تمہیں پسند آتی ہیں خواہ دو کرو یا تین کرو یا چار کرو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: اے میرے بھتیجے! بعض اوقات کوئی یتیم لڑکی کسی سرپرست کے زیر تربیت ہوتی تھی اور وہ اس سرپرست کے مال میں اس کی حصہ دار ہوتی تھی، اس سرپرست کو اس لڑکی کا مال اور خوبصورتی پسند آتے تھے تو وہ سرپرست یہ ارادہ کرتا کہ اس لڑکی کو کوئی مہر دیے بغیر اس کے ساتھ شادی کر لے یعنی وہ مہر جو اسے کسی دوسری عورت کے ساتھ شادی کرتے ہوئے دینا پڑتا (وہ اس لڑکی کو نہ دے) تو لوگوں کو اس بات سے منع کیا گیا کہ وہ ایسی لڑکیوں کے ساتھ صرف اسی وقت شادی کر سکتے ہیں جب وہ ان لڑکیوں کو اتنا مہر ادا کریں جتنا عام رواج میں دیا جاتا ہے اور لوگوں کو اس بات کا حکم دیا گیا کہ وہ ان یتیم لڑکیوں کے علاوہ کسی دوسری خاتون کے ساتھ شادی کر لیں (اگر وہ ان لڑکیوں کو مہر نہیں دینا چاہتے)۔ عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی کہ لوگوں نے اس آیت کے بعد اس بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ، جس کا ترجمہ ہے: ”لوگ تم سے خواتین کے بارے میں مسئلہ دریافت کرتے ہیں، تم فرما دو اللہ تعالیٰ ان خواتین کے بارے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے اور وہ چیز جو ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں کتاب میں تم لوگوں کے سامنے تلاوت کی گئی ہے، وہ لڑکیاں جنہیں تم وہ چیز ادا نہیں کرتے ہو جو ان کے حق میں مقرر کی گئی ہے اور تم اس چیز کے خواہش مند ہوتے ہو کہ تم ان کے ساتھ نکاح کر لو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ چیز جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر کیا ہے کہ کتاب میں تم لوگوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے، اس سے مراد پہلی والی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ [سورة النساء: 3] جس کا ترجمہ ہے: ”اگر تمہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لو گے تو جو خواتین تمہیں اچھی لگتی ہیں تم ان کے ساتھ شادی کر لو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی زیر سرپرستی ایسی یتیم لڑکی میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے جس کے پاس مال بھی کم ہوتا ہے اور وہ خوبصورت بھی نہیں ہوتی، تو لوگوں کو اس چیز سے منع کیا گیا کہ جن خواتین کے مال اور خوبصورتی میں انہیں دلچسپی ہوتی ہے وہ ان کے ساتھ اس وقت نکاح کر سکتے ہیں کہ جب وہ انصاف کے ساتھ انہیں مہر کی ادائیگی کریں، اس کی وجہ یہ ہے (کہ جن خواتین کے پاس مال کم ہوتا ہے) ان خواتین میں مردوں کو دلچسپی کم ہوتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4073]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2494، 2763، 4573، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 3018، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4073، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3346، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5488، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2068، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13865، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3667، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 17686» «رقم طبعة با وزير 4061»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1804): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي |
Sahih Ibn Hibban Hadith 4073 in Urdu