صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
47. - باب الولي - ذكر نفي إجازة عقد النكاح بغير ولي وشاهدي عدل
ولی کے بیان کا باب - اس بات کی نفی کہ نکاح کا عقد ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر جائز ہے
حدیث نمبر: 4075
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ، وَمَا كَانَ مِنْ نِكَاحٍ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، فَهُوَ بَاطِلٌ، فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ فِي خَبَرِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ هَذَا" وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ" إِلا ثَلاثَةُ أَنْفَسٍ: سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ الرَّقِّيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَلا يَصِحُّ فِي ذِكْرِ الشَّاهِدَيْنِ غَيْرَ هَذَا الْخَبَرِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جو نکاح اس کے علاوہ ہو گا وہ باطل شمار ہو گا اور اگر (ولی ہونے کے حوالے سے) لوگوں میں اختلاف ہو جاتا ہے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو حاکمِ وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن جریج کے حوالے سے سلیمان بن موسیٰ کے حوالے سے زہری سے منقول اس روایت میں یہ الفاظ ”دو عادل گواہوں کے بغیر“ یہ الفاظ صرف تین افراد نے نقل کیے ہیں: سعید بن یحییٰ اموی نے حفص بن غیاث کے حوالے سے نقل کیے ہیں، عبداللہ بن عبدالوہاب حجبی نے خالد بن حارث کے حوالے سے نقل کیے ہیں اور عبدالرحمن بن یونس رقی نے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے نقل کیے ہیں؛ دو گواہوں کا تذکرہ اس روایت کے علاوہ اور کہیں بھی مستند طور پر منقول نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4075]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 759، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4074، 4075، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2721، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2083، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1102، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1879، 1880، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 528، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13730، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3520، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2297، والحميدي فى (مسنده) برقم: 230» «رقم طبعة با وزير 4063»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4075 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق