Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. - باب الصداق - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الإمام من الأئمة لا يجوز له أن يخفى عليه شيء من أحكام الدين الذي لا بد للمسلمين منه
مہر کے بیان کا باب - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ کسی امام کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس سے دین کے احکام کا کوئی حصہ چھپا رہے جو مسلمانوں کے لیے ضروری ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4101
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالُوا: جِئْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ مِنَّا، وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا، وَلَمْ يَجْمَعْهُمَا اللَّهُ حَتَّى مَاتَ؟، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا سُئِلْتُ عَنْ شَيْءٍ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ، فَأْتُوا غَيْرِي، فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا، ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ، وَأَنْتَ أُخَيَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي هَذِهِ الْبَلْدَةِ، وَلا نَجْدُ غَيْرَكَ، فَقَالَ: ابْنُ مَسْعُودٍ: سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي، إِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ، أَرَى أَنْ يُفْرَضَ لَهَا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا، وَلا وَكْسَ، وَلا شَطَطَ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَذَلِكَ بِحَضْرَةِ نَاسٍ مِنْ أَشْجَعَ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمِثْلِ الَّذِي قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا، يُقَالُ لَهَا: بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ ، فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللَّهِ فَرِحَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الإِسْلامِ كَفَرْحِهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ".
علقمہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: ہم آپ کے پاس ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرنے کیلئے آئے ہیں جس کا تعلق ہم سے ہے اس نے شادی کی اس نے (اپنی بیوی کا) مہر مقرر نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میاں بیوی کو ملنے کا موقع نہیں دیا یہاں تک کہ مرد کا انتقال ہو گیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں اس کے بعد مجھ سے ایسے کسی مسئلے کے بارے میں دریافت نہیں کیا گیا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ مشکل ہو تم لوگ کسی اور کے پاس چلے جاؤ وہ لوگ ایک ماہ تک سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتے رہے پھر ایک ماہ کے بعد انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ اگر ہم آپ سے دریافت نہیں کریں گے تو پھر کس سے دریافت کریں گے؟ اس شہر میں صرف آپ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ہمیں آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں ملتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اس بارے میں اپنی ذاتی رائے کے مطابق مسئلہ بیان کروں گا اگر یہ درست ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گا اور اگر غلط ہوا تو میری طرف سے ہو گا اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ذمہ ہوں گے میرا یہ خیال ہے اس عورت کو اس کے جیسی دیگر عورتوں کی طرح کا مہر ادا کیا جائے گا، جس میں کوئی کمی اور کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور اس کو وراثت میں حصہ ملے گا اور اس عورت پر چار ماہ دس دن تک عدت گزارنا لازم ہے (راوی کہتے ہیں) یہ واقعہ اشجع قبیلے کے کچھ افراد کی موجودگی میں پیش آیا تو ایک صاحب کھڑے ہوئے، جن کا نام معقل بن سنان اشجعی تھا انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں وہی فیصلہ دیا ہے جو اس طرح کے مقدمے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا جو ہمارے (قبیلے کی) ایک خاتون کے بارے میں تھا اس خاتون کا نام بروع بنت واشق تھا۔ (راوی کہتے ہیں) سیدنا عبداللہ کو اسلام کے بعد اتنا زیادہ خوش اور کبھی نہیں دیکھا گیا جتنا وہ اس واقعہ سے خوش ہوئے (کہ ان کی ذاتی رائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق تھی) [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4101]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4089»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 358 - 359).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥علقمة بن قيس النخعي، أبو شبل
Newعلقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة ثبت
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← علقمة بن قيس النخعي
ثقة
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← عامر الشعبي
ثقة متقن
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← علي بن مسهر القرشي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن أحمد الرياني، أبو جعفر
Newمحمد بن أحمد الرياني ← علي بن حجر السعدي
ثقة حافظ