صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. باب النفقة - ذكر البيان بأن كل ما يصطنع المرء إلى أهله من الكسوة وغيرها يكون له صدقة-
نفقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی جو کچھ اپنے اہل و عیال کے لیے کپڑوں یا دیگر چیزوں سے کرتا ہے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے
حدیث نمبر: 4237
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزِّبْرِقَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِمَرْطٍ فَاسْتَغْلاهُ، فَمَرَّ بِهِ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ فَاشْتَرَاهُ وَكَسَاهُ امْرَأَتَهُ سُخَيْلَةَ بِنْتَ عُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، فَمَرَّ بِهِ عُثْمَانُ أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ الْمِرْطُ الَّذِي ابْتَعْتَ؟ قَالَ عَمْرٌو: تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَى سُخَيْلَةَ بِنْتِ عُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ. فَقَالَ: أَوَكُلُّ مَا صَنَعْتَ إِِلَى أَهْلِكِ صَدَقَةٌ؟ قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ، فَذُكِرَ مَا قَالَ عَمْرٌو لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ عَمْرٌو " كُلُّ مَا صَنَعْتَ إِِلَى أَهْلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِمْ" .
عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک چادر کے پاس سے گزرے انہیں وہ چادر مہنگی لگی، پھر عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ اس چادر کے پاس سے گزرے انہوں نے وہ چادر خریدی اور اپنی اہلیہ سخیلہ بنت عبیدہ بن حارث بن مطلب رضی اللہ عنہا کو وہ پہننے کے لیے دے دی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو انہوں نے دریافت کیا: اس چادر کا تم نے کیا کیا جو تم نے خریدی تھی؟ تو عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا: وہ میں نے (اپنی اہلیہ) سخیلہ بنت عبیدہ رضی اللہ عنہا کو دے دی ہے، ان صاحب نے دریافت کیا: تم نے اپنی بیوی کو جو کچھ دیا ہے کیا یہ سب صدقہ شمار ہو گا؟ تو عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا جو عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرو نے ٹھیک کیا ہے تم اپنی بیوی کے ساتھ جو بھی اچھائی کرتے ہو یہ ان کے لیے صدقہ ہو گئی (یعنی تمہیں اس کا اجر و ثواب ملے گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4237]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4237، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9140، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7852، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17892» «رقم طبعة با وزير 4223»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن لغيره - «الصحيحة» (1024).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4237 in Urdu
عبد الله بن عمرو الضمري ← عمرو بن أمية الضمري