🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب النفقة - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة العلم أن مال الابن يكون للأب-
نفقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ بیٹے کا مال باپ کا ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4262
أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُ أَبَاهُ فِي دَيْنٍ لَهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَاهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ مُعَامَلَتِهِ أَبَاهُ بِمَا يُعَامِلُ بِهِ الأَجْنَبِيِّينَ، وَأَمْرَ بِبِرِّهِ، وَالرِّفْقِ بِهِ فِي الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ مَعًا إِِلَى أَنْ يَصِلَ إِِلَيْهِ مَالُهُ، فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ، لا أَنَّ مَالَ الابْنِ يَمْلِكُهُ أَبُوهُ فِي حَيَاتِهِ عِنْ غَيْرِ طَيْبِ نَفْسٍ مِنَ الابْنِ بِهِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کا اپنے والد کے ساتھ ایک قرض کے سلسلے میں جھگڑا چل رہا تھا جو اس نے اپنے والد سے لینا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس کا مطلب یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس بات پر ڈانٹا ہے اس نے اپنے والد کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کیا ہے جو رویہ اجنبی لوگوں کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے والد کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنے والد کے ساتھ بات چیت اور طرز عمل میں نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ آپ نے اس شخص کے مال کو اس کے والد کے مال کے ساتھ ملا دیا اور اس سے ارشاد فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے اس سے یہ مراد ہے بیٹے کا باپ اپنے بیٹے کی زندگی میں ہی اس کے مال کا مالک بن جاتا ہے جب کہ بیٹے کی اس حوالے سے کوئی رضا مندی بھی نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4262]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4248»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - وهو مكرر (411).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عبد الله بن كيسان المروزي، أبو مجاهد
Newعبد الله بن كيسان المروزي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← عبد الله بن كيسان المروزي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥الحصين بن المثنى المروزي
Newالحصين بن المثنى المروزي ← الفضل بن موسى السيناني
مجهول الحال
👤←👥إسحاق بن إبراهيم الهروي، أبو موسى
Newإسحاق بن إبراهيم الهروي ← الحصين بن المثنى المروزي
ثقة