صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. ذكر البيان بأن من عجل له العقوبة بالحدود تكون إقامتها كفارة لها-
- ذکر اس بیان کا کہ جسے حدود کے ذریعے جلد سزا دی جائے اس کا نفاذ اس کے لیے کفارہ بنتا ہے
حدیث نمبر: 4405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ مِنَّا، وَقَالَ: " مَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ حَدًّا فَعُجِّلَتْ لَهُ عُقُوبَتُهُ، فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَمَنْ أُخِّرَ عَنْهُ، فَأَمْرُهُ إِِلَى اللَّهِ إِِنْ شَاءَ رَحِمَهُ، وَإِِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح بیعت لی جس طرح ہماری خواتین سے لی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص ان میں سے کسی ایک قابل حد چیز کا مرتکب ہو جائے اور اسے دنیا میں سزا دے دی جائے تو یہ چیز اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس شخص سے یہ بات مؤخر ہو جائے (یعنی اسے دنیا میں سزا نہ ملے) تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو گا اگر وہ چاہے گا تو اس پر رحم کر دے گا اور اگر چاہے گا تو اسے عذاب دیدے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4405]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4388»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2999): م، ق نحوه. * [أَبِي أَسْمَاءَ] قال الشيخ: كذا في رِوَايَة المُؤلِّف، وكذا في «الموارد» (1506). وأَخشى أَنْ يكون خَطأ أو مُحرَّفاً من: (أبي الأشعث)؛ فَإِنَّهُ هكذا في رواية مسلم (5/ 127) وغيره مِمَّن أَخرجَ الحديث مِنْ طريق أبِي قلابة. وأيضاً؛ فَإِنَّ أَبَا أَسْمَاء - وَاسمُه: عمرو بن مَرْثَدٍ - لم يذكروا له رواية عن عُبادةَ، والله أعلم.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح
الرواة الحديث:
عمرو بن مرثد الرحبي ← عبادة بن الصامت الأنصاري