صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. ذكر الإخبار عن إباحة قتل المرء المسلم إذا ارتكب إحدى الخصال الثلاث التي من أجلها أبيح دمه-
- ذکر اس خبر کا کہ مسلمان کو قتل کرنے کی اجازت ہے اگر وہ تین خصالوں میں سے کوئی ایک کرے جن کی وجہ سے اس کا خون مباح ہو
حدیث نمبر: 4408
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِِلا بِإِِحْدَى ثَلاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی ایسے شخص کا خون بہانا جائز نہیں ہے جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، البتہ تین لوگوں کا حکم مختلف ہے: شادی شدہ زانی، جان کے بدلے میں جان اور اپنے دین (یعنی دین اسلام) کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص (یعنی انہیں قتل کیا جائے گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4408]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6878، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1676، وابن الجارود فى "المنتقى"، 898، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4407، 4408، 5976، 5977، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8131، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4028 وأبو داود فى (سننه) برقم: 4352، 4353، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1402، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2534، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15944، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3087، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3691» «رقم طبعة با وزير 4391»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (7/ 253 - 255/ 2196): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4408 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود