🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب حد القذف - ذكر البيان بأن القاذف امرأته عند عدم الشهود الأربعة بقذفه إياها أو تلكئه عن اللعان يجب عليه الحد لقذفه امرأته-
قذف (زنا کی تہمت) کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور چار گواہ پیش نہ کرے یا لعان سے گریز کرے تو اس پر قذف کی حد واجب ہو جاتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4451
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَوَّلُ لِعَانٍ فِي الإِِسْلامِ أَنَّ شَرِيكَ بْنَ سَحْمَاءَ أَقْذَفَهُ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ بِامْرَأَتِهِ، فَرَفَعَهُ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا هِلالُ، أَرْبَعَةُ شُهُودٍ وَإِِلا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي صَادِقٌ، وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْجَلْدِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 إِِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اشْهَدْ بِاللَّهِ إِِنَّكَ لِمَنِ الصَّادِقِينَ فِيمَا رَمَيْتَهَا بِهِ مِنَ الزِّنَى". فَشَهِدَ بِذَلِكَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، ثُمَّ قَالَ لَهُ فِي الْخَامِسَةِ:" وَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ إِِنْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ فِيمَا رَمَيْتَهَا بِهِ مِنَ الزِّنَى". فَفَعَلَ، ثُمَّ دَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قَوْمِي اشْهَدِي بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الْكَاذِبِينَ فِيمَا رَمَاكَ بِهِ مِنَ الزِّنَى". فَشَهِدَتْ بِذَلِكِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، ثُمَّ قَالَ لَهَا فِي الْخَامِسَةِ:" وَغَضَبُ اللَّهِ عَلَيْكِ إِِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ فِيمَا رَمَاكِ بِهِ مِنَ الزِّنَى". فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الْخَامِسَةِ فَسَكَتَتْ سَكْتَةً حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهَا سَتَعْتَرِفُ، ثُمَّ قَالَتْ: لا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَمَضَتْ عَلَى الْقَوْلِ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ:" انْظُرُوا، إِِنْ جَاءَتْ بِهِ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، وَإِِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلالِ بْنِ أُمَيَّةَ". فَجَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلا مَا نَزَلَ فِيهِمَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهُمَا شَأْنٌ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلام میں لعان کا واقعہ پہلی مرتبہ اس وقت پیش آیا جب ہلال بن امیہ نے شریک بن سحماء پر اپنی بیوی کے ساتھ زنا کا الزام لگایا انہوں نے یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے ہلال چار گواہ لے کر آؤ ورنہ تمہاری پشت پر حد جاری ہو گی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور آپ پر وہ چیز نازل کر دے گا جو میری پشت پر کوڑے لگنے سے روک دے گی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں۔ یہ آیت کے آخر تک ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور فرمایا: تم اللہ کے نام کی گواہی دے کر کہو کہ تم سچے ہو اس حوالے سے جو تم نے اس عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے تو انہوں نے چار مرتبہ اس بات کی گواہی دی پھر پانچویں مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: (کہ تم یہ کہو) اللہ تعالیٰ کی تم پر لعنت ہے، اگر تم جھوٹے ہوئے اس چیز کے بارے میں جو تم نے اس عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے تو ان صاحب نے ایسا ہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور فرمایا: تم اٹھو اور اللہ کے نام کی گواہی دے کر کہو کہ یہ مرد جھوٹا ہے اس چیز کے بارے میں جو اس نے تم پر زنا کا الزام لگایا ہے تو اس عورت نے چار مرتبہ اس بات کی گواہی دی تو پانچویں مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: (تم یہ کہو) اللہ تعالیٰ کا غضب تم پر نازل ہو اگر وہ مر سچا ہوا اس چیز کے بارے میں جو اس نے تم پر زنا کا الزام لگایا ہے تو چوتھی مرتبہ یا پانچویں مرتبہ وہ عورت کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی، یہاں تک کہ لوگوں نے یہ گمان کیا کہ وہ اعتراف کر لے گی پھر اس عورت نے کہا: میں اپنی قوم کو بھی رسوائی کا شکار نہیں کروں گی پھر اس نے اپنی بات کو جاری رکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی اور پھر ارشاد فرمایا: تم لوگ اس بات کا جائزہ لینا اگر اس نے گھنگریالے بالوں والے، موٹی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دیا تو وہ شریک بن سحماء کا ہو گا اگر اس نے سفید رنگ کے سیدھے بالوں والے بڑی آنکھوں والے بچے کو جنم دیا تو وہ ہلال بن امیہ کا ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے گندمی رنگت کے گھنگریالے بالوں والے اور موٹی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر ان دونوں کے بارے میں اللہ کی کتاب کا حکم نازل نہ ہو چکا ہوتا تو میں اس معاملے کو دوسری طرح سے نمٹاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4451]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4434»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد: م (4/ 209) مختصراً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥مخلد بن الحسين المصيصي، أبو محمد
Newمخلد بن الحسين المصيصي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة
👤←👥مسلم بن عبد الرحمن الجرمي
Newمسلم بن عبد الرحمن الجرمي ← مخلد بن الحسين المصيصي
ثقة
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← مسلم بن عبد الرحمن الجرمي
ثقة مأمون