پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
67. باب قطع الطريق - ذكر المدة التي رد القوم الذي ذكرناهم فيها إلى المدينة-
راہزنی کی حد کا بیان - اس مدت کا بیان جس میں عرنیوں کو پکڑ کر مدینہ واپس لایا گیا۔
حدیث نمبر: 4468
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ، أَوْ قَالَ عُرَيْنَةَ، وَلا أَعْلَمُهُ إِِلا قَالَ: عُكْلٍ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَشَرِبُوا حَتَّى إِِذَا بَرِءُوا، قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي أَثَرِهِمْ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ،" فَأَمَرَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، فَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ، فَلا يَسْقُونَ" . قَالَ أَبُو قِلابَةَ: هَؤُلاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عکل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں (کے باڑے) کی طرف جانے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ ان لوگوں نے اسے پیا یہاں تک کہ وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے (ان اونٹوں کے چرواہے) کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ صبح کے وقت اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے مہم روانہ کی دن چڑھ جانے کے بعد ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں اور انہیں گرم پتھروں پر ڈال دیا گیا۔ وہ لوگ پانی مانگتے تھے تو انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ ابوقلابہ کہتے ہیں یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری بھی کی، قتل بھی کیا اور ایمان لانے کے بعد کفر بھی کیا اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ بھی کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4468]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، 1387، 1388، 4467، 4468، 4469، 4470، 4471، 4472، 4474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224» «رقم طبعة با وزير 4451»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (2578): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4468 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← أنس بن مالك الأنصاري