صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام ترك الدخول في الأمور التي يتهيأ القدح فيها وإن كانت تلك الأمور مباحة-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے ان امور میں داخل ہونے سے اجتناب کا استحباب جن پر اعتراض یا قدح کا دروازہ کھل سکتا ہو اگرچہ وہ امور مباح ہوں۔
حدیث نمبر: 4496
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: جِئْتُ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ وَهُوَ عَاكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ مَعِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي يَبَلِّغُنِي بَيْتِي، فَلَقِيَهُ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ اسْتَحْيَا فَرَجَعَا، فَقَالَ:" تَعَالَيَا، فَإِِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ". فَقَالا: نَعُوذُ بِاللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ. قَالَ:" مَا أَقُولُ لَكُمَا هَذَا إِِنْ تَكُونَا تَظُنَّانِ سُوءًا، وَلَكِنْ عَلِمْتُ أَنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ" .
سیدنا امام زین العابدین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں کچھ دیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بات چیت کرتی رہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں اعتکاف کیے ہوئے تھے رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے گھر تک پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے راستے میں دو انصاری افراد کی ملاقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی جب ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ شرما گئے اور واپس پلٹ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں آگے آؤ یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو میری اہلیہ ہے) ان دونوں نے عرض کی: ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں: (ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں برا گمان کیسے رکھ سکتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم دونوں سے یہ نہیں کہہ رہا کہ تم دونوں نے کوئی برا گمان کیا ہو گا لیکن مجھے یہ بات پتہ ہے شیطان انسان کی رگوں میں گردش کرتا ہے (وہ تمہارے ذہن میں کوئی غلط خیال ڈال سکتا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4496]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4479»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2133 و 2134): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم
الرواة الحديث:
علي زين العابدين ← صفية بنت حيي النضيرية