صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
55. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام معونة رعيته في أسبابهم بنفسه وإن كان من القوم من يكفيه ذلك-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ رعایا کے کاموں میں خود تعاون کرے اگرچہ کوئی دوسرا یہ کام کرنے کے لیے موجود ہو
حدیث نمبر: 4535
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْقِلُ مَعَنَا التُّرَابَ يَوْمَ الأَحْزَابِ، وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ"، وَهُوَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَوْلا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلا تَصَدَّقْنَا وَلا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنَ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِِنْ لاقَيْنَا إِِنَّ الأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہمراہ مٹی منتقل کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی کو مٹی نے ڈھانپ لیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ! اگر تیری ذات نہ ہوتی تو ہم ہدایت حاصل نہ کرتے ہم صدقہ نہ دیتے ہم نماز نہ پڑھتے تو ہم پر سکینت نازل کر اور جب ہمارا دشمن سے سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھنا بے شک ان لوگوں نے ہم پر حملہ کیا ہے وہ لوگ اگر آزمائش کا ارادہ کریں گے تو ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4535]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4518»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3242): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري