صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
60. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام تخويف رعيته بما ليس في خلده إمضاؤه-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے جائز ہے کہ رعایا کو ایسی بات سے ڈرائے جسے وہ فی الحال نافذ کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو
حدیث نمبر: 4540
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي ذَاتِ السَّلاسِلِ، فَسَأَلَهُ أَصْحَابُهُ أَنْ يُوقِدُوا نَارًا، فَمَنَعَهُمْ، فَكَلَّمُوا أَبَا بَكْرٍ، فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: لا يُوقِدُ أَحَدٌ مِنْهُمْ نَارًا إِِلا قَذَفْتُهُ فِيهَا. قَالَ: فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَهَزَمُوهُمْ، فَأَرَادُوا أَنْ يَتَّبِعُوهُمْ، فَمَنَعَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَلِكَ الْجَيْشُ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَكَوْهُ إِِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آذَنَ لَهُمْ أَنْ يُوقِدُوا نَارًا فَيَرَى عَدُوُّهُمْ قِلَّتَهُمْ، وَكَرِهْتُ أَنْ يَتَّبِعُوهُمْ فَيَكُونُ لَهُمْ مَدَدٌ فَيُعْطِفُوا عَلَيْهِمْ، فَحَمِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ " مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِِلَيْكَ؟ قَالَ:" لِمَ؟" قَالَ: لأُحِبُّ مَنْ تُحِبُّ. قَالَ:" عَائِشَةُ". قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ:" أَبُو بَكْرٍ" .
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں، جنگ ذات سلاسل میں بھیجا ان کے ساتھیوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ آگ جلا لیں، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا لوگوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے بات کی تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو بھی شخص آگ جلائے گا میں اسے اس آگ میں ڈال دوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب ان لوگوں کا دشمن سے سامنا ہوا تو انہوں نے دشمن کو شکست دے دی (دشمن بھاگ کھڑا ہوا) ان لوگوں نے ان کے پیچھے جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں روک لیا جب یہ لشکر واپس آیا تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس لیے انہیں آگ جلانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ دشمن کو ان کی تعداد کی کمی کا اندازہ ہو جانا تھا اور میں نے اس لیے انہیں دشمن کے پیچھے نہیں جانے دیا کہ اگر دشمن کو کہیں سے مدد حاصل ہو گئی تو وہ ان پر غالب آ جائے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فیصلے کی تعریف کی انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو۔ انہوں نے عرض کی: اس لیے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سے محبت کرتے ہیں میں بھی اس سے محبت رکھوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ۔ انہوں نے دریافت کیا: مردوں میں کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4540]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4523»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: قلت: إِسنادهُ صحيحٌ، رجالُه ثِقاتٌ رجال الشيخين؛ غيرَ الحسن بن حَمَّادٍ الحضرمي، وهو ثقة ٌ من رجال «التهذيب». وأخرج منه ابن أبي شيبة (12/ 17 / 12006) - جملةَ الحُبِّ الَّتِي في آخره -: حدثنا أبو أسامة، قال: أخبرنا إسماعيل ... وأخرجها النسائيُّ في «فضائل الصحابة» (54/ 5)، وأحمد - أيضاً - في «الفضائل» (2/ 872 / 1637)، والحاكم (4/ 12) مِنْ طَرق أُخرى عن إِسماعيل ... به ببعض باختصار. وهي عند البخاري (4358)، ومسلم (7/ 109)، والترمذي (3879)، وصحَّحه مِنْ طَريق أبي عُثمان، عن عمرو بن العاص نحوه. ثُمَّ أخرجه الترمذي، عن شيخ آخرَ عن يحيى بن سعيد الأموي به مُختصراً لرواية النسائي، وقال: «حسن غريب». وسكتَ الحافظُ في «الفتح» (8/ 75)، عن حديث الكتاب مُشيراً بذلك إلى أَنَّهُ قَوِيٌّ عنده. وسيأتي برقم (7062) مِنْ طَريق آخرَ، عن إِسماعيلَ. وسيأتي برقم (6959) مِنْ طَرِيق أُخرى، عن عمرِو بنِ العاص بزيادة في مَتنِه، ويأتي الكلام عليه. تنبيه!! رقم (7062) = (7106) من «طبعة المؤسسة». رقم (6959) = (6998) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
قيس بن أبي حازم البجلي ← عمرو بن العاص القرشي