صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
90. باب طاعة الأئمة - ذكر الزجر عن ترك اعتقاد المرء الإمام الذي يطيع الله جل وعلا في أسبابه-
ائمہ کی اطاعت کا بیان - اس بات پر وعید کہ انسان ایسے امام پر ایمان نہ چھوڑے جو اللہ کی اطاعت کرتا ہو
حدیث نمبر: 4573
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِِمَامٌ، مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاتَ مَيْتَةً الْجَاهِلِيَّةِ، مَعْنَاهُ: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْتَقِدْ أَنَّ لَهُ إِِمَامًا يَدْعُو النَّاسَ إِِلَى طَاعَةِ اللَّهِ حَتَّى يَكُونَ قِوَامُ الإِِسْلامِ بِهِ عِنْدَ الْحَوَادِثِ وَالنَّوَازِلِ، مُقْتَنِعًا فِي الانْقِيَادِ عَلَى مَنْ لَيْسَ نَعَتُهُ مَا وَصَفْنَا مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: ظَاهِرُ الْخَبَرِ أَنَّ مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِِمَامٌ، يُرِيدُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ مَيْتَةً الْجَاهِلِيَّةِ، لأَنَّ إِِمَامَ أَهْلِ الأَرْضِ فِي الدُّنْيَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ إِِمَامَتَهُ أَوِ اعْتَقَدَ إِِمَامًا غَيْرَهُ مُؤْثِرًا قَوْلَهُ عَلَى قَوْلِهِ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ایسی حالت میں مرے اس کا کوئی امام نہ ہو (یعنی وہ کسی مسلمان حکمران کا فرمانبردار نہ ہو) تو وہ شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”وہ شخص زمانہ جاہلیت کی سی موت مرتا ہے“ اس سے مراد یہ ہے: جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ وہ اس بات کا اعتقاد نہ رکھتا ہو کہ اس کا کوئی ایسا امام ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی طرف دعوت دیتا ہے اور حادثات اور مشکلات پیش آنے پر اسلام کی بنیادوں کی حفاظت کرتا ہے اور وہ شخص اس کی پیروی کرتا ہے، جس کی وہ صفت نہ ہو جو ہم نے بیان کی ہے تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے جو شخص ایسی حالت میں انتقال کر جائے کہ اس کا کوئی امام نہ ہو اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: وہ شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے: اہل زمین کے امام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کا علم نہیں رکھتا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے امام کا معتقد ہوتا ہے اور اس کے قول کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ترجیح دیتا ہے پھر وہ شخص اسی حالت میں مر جاتا ہے تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4573]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4554»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «ظلال الجنة» (1057).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← معاوية بن أبي سفيان الأموي