صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
188. باب الخيل - ذكر تفضل الله على مرتبط الخيل ومحبسها بكتبه ما غيبت في بطونها وأرواثها وأبوالها حسنات-
گھوڑوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ گھوڑے پالنے والے کے لیے ان کے پیٹوں، لید اور پیشاب تک کو نیکیوں میں لکھ دیتا ہے
حدیث نمبر: 4672
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ، كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ، كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٌ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يَرُدْ أَنْ يَسْقِيَهُ، كَانَ لَهُ ذَلِكَ حَسَنَاتٌ، فَهِيَ لِذَلِكَ أَجْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلا ظُهُورِهَا، فَهِيَ لِذَلِكَ سِتْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِِسْلامِ، فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٍ". وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ:" مَا أَنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِِلا بِهَذِهِ الآيَةِ الْجَامِعَةِ الْفَاذَّةِ: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 7 - 7" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: النِّوَاءُ: الْكِبْرُ وَالْخُيَلاءُ فِي غَيْرِ ذَاتِ اللَّهِ، وَالْكِبْرُ وَالْخُيَلاءُ فِي ذَاتِ اللَّهِ مَحْمُودَانِ، إِِذْ هُمَا الْفَرَحُ بِالطَّاعَاتِ وَتَانِكَ الْفَرَحُ بِالدُّنْيَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گھوڑا ایک آدمی کے لیے اجر ہوتا ہے، ایک آدمی کے لیے ستر (پردہ) ہوتا ہے اور ایک آدمی کے لیے گناہ ہوتا ہے۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جس کے لیے یہ اجر ہوتا ہے، تو یہ وہ شخص ہے جو گھوڑے کو اللہ کی راہ میں باندھتا ہے، وہ اسے اپنی چراگاہ یا باغ میں چرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے، تو اس چراگاہ یا باغ میں اس گھوڑے کی رسی جہاں تک جاتی ہے اس شخص کے لیے اس کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور اگر وہ گھوڑا اپنی رسی تڑوا کر کسی ایک ٹیلے پر یا دو ٹیلوں پر چڑھ جائے تو اس کے قدموں کے نشان اور اس کے لید کرنے کو بھی اس شخص کے لیے نیکی کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ گھوڑا کسی نہر کے پاس سے گزر کر اس میں سے پانی پی لے حالانکہ اس کے مالک نے اسے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو تو یہ بات بھی اس کے مالک کے لیے نیکیاں ملنے کا باعث بنتی ہے اور یہ چیز اس کے لیے اجر ہوتی ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو گھوڑا اس لیے باندھتا ہے تاکہ خوش حالی اختیار کرے اور لوگوں کی (مدد مانگنے سے) بچے، وہ شخص اس گھوڑے کی گردن اور پشت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو فراموش نہیں کرتا، تو یہ وہ گھوڑا ہے جو اس کے لیے ستر کا باعث ہوتا ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو گھوڑے کو فخر اور ریاکاری کے لیے اور اہل اسلام کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرنے کے لیے باندھتا ہے، تو یہ اس کے لیے گناہ ہوتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بارے میں مجھ پر باقاعدہ کوئی چیز نازل نہیں ہوئی، بس یہ جامع آیت ہے: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] ”جو شخص ذرے کے وزن جتنی اچھائی کرے گا وہ اس کا بدلہ دیکھ لے گا اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا وہ اس کا بدلہ دیکھ لے گا۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «نِوَاء» کا مطلب اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ تکبر کرنا اور بڑائی کا اظہار کرنا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی ذات (کی رضامندی میں) تکبر اور بڑائی قابلِ تعریف ہیں، کیونکہ یہ دونوں نیکیوں کے ساتھ خوش ہونے کے بارے میں ہوتے ہیں اور وہ دنیا کے ساتھ خوش ہونے کے حوالے سے ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4672]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1402، 1403، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 987، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3253، 3254، 3258، 3261، 3313، 3332، 4671، 4672، 4675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1439، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1658، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1786، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5873» «رقم طبعة با وزير 4653»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الترغيب» (754).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4672 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي