🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
238. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر اسم الأنصاري الذي قال للمصطفى صلى الله عليه وسلم ما وصفنا-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اس انصاری کا نام جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات کہہ کر بیان ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4722
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ النَّاسَ أَيَّامَ بَدْرٍ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَضَافَ عَنْهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ، فَضَافَ عَنْهُ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِيَّانَا تُرِيدُ؟ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَخُوضَ الْبَحْرَ لَخُضْنَاهُ، أَوْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا، فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ وَانْطَلَقَ إِلَى بَدْرٍ، فَإِذَا هُمْ بِرَوَايَا لِقُرَيْشٍ فِيهَا عَبْدٌ أَسْوَدٌ لِبَنِي الْحَجَّاجِ، فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ، أَيْنَ أَبُو سُفْيَانَ، وَأَيْنَ تَرَكْتَهُ؟ فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ، هَذِهِ قُرَيْشٌ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، فَإِذَا قَالَ لَهُمْ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ، فَيَقُولُ: دَعُونِي، دَعُونِي أُخْبِرُكُمْ، فَإِذَا تَرَكُوهُ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ، وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ، وَعُتْبَةُ، وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، قَدْ أَقْبَلُوا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَانْصَرَفَ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ، وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ، هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ تَمْنَعُ أَبَا سُفْيَانَ"، قَالَ: فَأَوْمَأَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ، وَقَالَ: " هَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ غَدًا، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ غَدًا"، قَالَ أَنَسٌ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَمَاطَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَصْرَعِهِ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے مشورہ لیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ گفتگو کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید رائے مانگی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بات چیت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید رائے مانگی سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمارے رائے جاننا چاہتے ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم سمندر میں کود جائیں تو ہم سمندر میں کود جائیں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم ان سے لڑتے ہوئے برک غماد تک چلے جائیں، تو ہم ایسا بھی کر لیں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ہدایت کی اور بدر کی طرف روانہ ہو گئے وہاں قریش کے کچھ لوگ آ چکے تھے۔ جن میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اسے پکڑ لیا اور اس سے دریافت کرنے لگے ابوسفیان کہاں ہے تم نے اسے کہاں چھوڑا تھا۔ وہ یہی کہتا جا رہا تھا۔ اللہ کی قسم! مجھے ابوسفیان کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے یہ تو قریش کے لوگ ہیں۔ ابوجہل بن ہشام ہے، عتبہ بن ربیعہ ہے، شیبہ بن ربیعہ ہے، امیہ بن خلف ہے۔ جب وہ ان کے سامنے یہ بات کہتا تو یہ لوگ اس کی پٹائی کرتے تو وہ یہ کہتا کہ تم مجھے چھوڑ دو۔ تم مجھے چھوڑ دو۔ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ جب وہ اسے چھوڑ دیتے تو وہ پھر یہی کہتا اللہ کی قسم! مجھے ابوسفیان کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے یہ تو قریش آ رہے ہیں۔ جن میں ابوجہل ہے، عتبہ ہے، شیبہ ہے، یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے ہیں اور امیہ بن خلف ہے۔ یہ لوگ آ رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو ارشاد فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جب یہ تمہارے ساتھ سچ بات کہتا ہے، تو تم لوگ اس کی پٹائی شروع کر دیتے ہو اور جب غلط بیانی کرتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو۔ یہ قریش آئے ہیں جو ابوسفیان کو بچانے کے لیے آئے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست اقدس کے لیے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کل فلاں شخص یہاں مرا ہوا ہو گا۔ کل فلاں شخص یہاں مرا ہوا ہو گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ان میں سے کوئی بھی شخص اس مخصوص جگہ سے ہٹا ہوا نہیں تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4722]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4702»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2403)، «تخريج فقه السيرة» (224): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥هدبة بن خالد القيسي، أبو خالد
Newهدبة بن خالد القيسي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← هدبة بن خالد القيسي
ثقة