الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
300. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر عدد القوم الذين قتلوا يوم قريظة-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - یوم بدرِ قریظۃ میں قتل کیے گئے لوگوں کی تعداد کا ذکر
حدیث نمبر: 4784
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: رُمِيَ يَوْمَ الأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَتَرَكَهُ، فَنَزَفَ الدَّمُ فَحَسَمَهُ أُخْرَى، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تَقَرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ، فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: تُقْتَلُ رِجَالُهُمْ، وَتُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ، فَغَنِمَ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ، وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمْ، انْفَتَقَ عِرْقُهُ، فَمَاتَ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احزاب کے موقع پر سیدنا سعد بن معاد رضی اللہ عنہ کو تیر لگا جس نے ان کے بازو کی رگ کو کاٹ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے آگ جلوائی اور اس کے ذریعے داغ لگوایا تو ان کا بازو پھول گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا تو خون پھر بہنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ داغ لگوایا تو پھر ان کا ہاتھ پھول گیا جب انہوں نے یہ صورتحال دیکھی تو انہوں نے کہا: اے اللہ تو میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنو قریظہ کے حوالے سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا تو ان کی رگ کا خون نکلنا بند ہو گیا اس کے بعد ایک قطرہ بھی نہیں نکلا یہاں تک کہ جب بنو قریظہ نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث تسلیم کیا تو انہوں نے انہیں بلوایا اور حکم دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے۔ ان کی خواتین اور بچوں کو زندہ رکھا جائے تو مسلمانوں کو مال غنیمت بھی حاصل ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ ان لوگوں کی تعداد چار سو تھی۔ جب لوگ ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی رگ سے خون بہنا شروع ہو گیا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4784]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4764»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 38 - 39): م طرفه الأول.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري