صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
308. باب الخروج وكيفية الجهاد - غزوة بدر-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - غزوة بدر کا باب۔
حدیث نمبر: 4793
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلا، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ رَبَّهُ: " اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ آتِنِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلامِ لا تُعْبَدُ فِي الأَرْضِ"، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلا مَادَا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ، وَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبِهِ، ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ سورة الأنفال آية 9، فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلائِكَةِ . قَالَ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشُدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ، إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ فَوْقَهُ، يَقُولُ: أَقْدِمْ حَيْزُومُ، إِذْ نَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ خَرَّ مُسْتَلْقِيًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذْا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ سَوْطٍ، فَاخْضَرَّ ذَاكَ أَجْمَعُ، فَجَاءَ الأَنْصَارِيُّ، فَحَدَّثَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقْتَ ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ"، فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا أَسَرُوا الأُسَارَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بَكْرٍ وَعَلِيٍّ وَعُمَرَ:" مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلاءِ الأُسَارَى؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ، أَرَى أَنْ نَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً تَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمُ إِلَى الإِسْلامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟" قُلْتُ: لا، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَنَا، فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَتُمَكِّنَنِي مِنْ فُلانٍ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ نَسِيبٍ كَانَ لِعُمَرَ، فَإِنَّ هَؤُلاءَ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا، فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ جِئْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَانِ يَبْكِيَانِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ سورة الأنفال آية 67 إِلَى قَوْلِهِ: فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالا طَيِّبًا سورة الأنفال آية 69، فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: جب غزوہ بدر کا دن آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف دیکھا جن کی تعداد ایک ہزار تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تین سو سے کچھ زیادہ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے اور آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں یہ التجا کرنے لگے: «اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ» ”اے اللہ! تو نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے، اے اللہ! جو تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے۔ اے اللہ! اگر یہ گروہ ہلاکت کا شکار ہو گیا جو اہل اسلام سے تعلق رکھتا ہے تو پھر تیری زمین پر عبادت نہیں کی جائے گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اپنے پروردگار کی بارگاہ میں التجائیں کرتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے، قبلہ کی طرف رخ کیا ہوا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے سے چادر گر گئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر رکھی، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے اپنے ساتھ لپٹا لیا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں بہت سی التجائیں کر لی ہیں۔ آپ کا پروردگار آپ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا کر دکھائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ [سورة الأنفال: 9] ”جب تم اپنے پروردگار سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا کو قبول کیا۔ بے شک میں تمہاری طرف ایک ہزار فرشتے بھیجنے لگا ہوں جو ایک دوسرے کے آگے پیچھے آئیں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد کی۔ ابوزمیل نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بات بتائی ہے: اس دن ایک مسلمان شخص ایک مشرک کے پیچھے جا رہا تھا جو اس کے آگے تھا، اسی دوران اس نے کوڑے کی آواز اپنے اوپر سے سنی اور اپنے اوپر سے ایک گھڑ سوار کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا: «أَقْدِمْ حَيْزُومُ» ”حیزوم! آگے بڑھو۔“ اسی دوران اس کی نظر اپنے آگے مشرک پر پڑی جو چت لیٹا ہوا گر چکا تھا۔ اس نے اس کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ اور ناک چھل چکے تھے یوں جیسے اسے کوڑا لگا ہوا ہو۔ پھر وہ انصاری آیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کہا ہے، یہ آسمان سے آنے والی تیسری مدد تھی۔“ ان لوگوں نے اس دن ستر (70) مشرکین کو قتل کیا تھا اور ستر کو قید کیا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ان لوگوں نے قیدیوں کو قید کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر، سیدنا علی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! یہ چچا زاد ہیں، خاندان کے افراد ہیں، میری یہ رائے ہے کہ ہم ان سے فدیہ لے لیتے ہیں جو ہمارے لیے کفار کے خلاف تیاری میں مدد دے گا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اسلام کی ہدایت نصیب کرے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خطاب کے صاحبزادے! تمہاری کیا رائے ہے؟“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں نے عرض کی: جی نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری وہ رائے نہیں ہے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے، میری یہ رائے ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کریں ہم ان کی گردنیں اڑاتے ہیں، آپ عقیل کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کریں یہ اس کی گردن اڑائیں، مجھے فلاں کے حوالے کریں میں اس کی گردن اڑاتا ہوں (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھانجے کے بارے میں یہ بات کہی)، یہ لوگ کفر کے پیشوا ہیں اور اس کے سردار ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو اختیار کیا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیش کی تھی اور اس رائے کو اختیار نہیں کیا تھا جو میں نے بیان کی تھی۔ اگلے دن میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بتائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کس بات پر رو رہے ہیں؟ تاکہ میں بھی اس بات پر رونا شروع کر دوں، اگر میں اس بات پر رو نہ سکوں تو رونے والی شکل بنا لوں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اس بات پر رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کی پیشکش کی تھی۔“ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا ہے: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ سے ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [سورة الأنفال: 67-69] تک، تو اللہ تعالیٰ نے مالِ غنیمت کو حلال قرار دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4793]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1763، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4793، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2690، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3081، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12966، وأحمد فى (مسنده) برقم: 213» «رقم طبعة با وزير 4773»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «تخريج فقه السيرة» (225): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4793 in Urdu
سماك بن الوليد الحنفي ← عبد الله بن العباس القرشي