Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. ذكر وصف الإسراء برسول الله صلى الله عليه وسلم من بيت المقدس-
- اس کیفیت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ کو بیت المقدس سے (آسمانوں کی طرف) سیر کرائی گئی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 48
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا هُمَامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ وَرُبَّمَا، قَالَ: فِي الْحِجْرِ إِذْ أَتَانِي آتٍ، فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِي:" مَا يَعْنِي بِهِ؟" قَالَ: مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي، ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءًا إِيمَانًا وَحِكْمَةً، فَغُسِلَ قَلْبِي، ثُمَّ حُشِيَ، ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ، فَقَالَ لَهُ الْجَارُودُ: هُوَ الْبُرَاقُ يَا أَبَا حَمْزَةَ؟ قَالَ أَنَسٌ: نَعَمْ، يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ، فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَاسْتَفْتَحَ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ فِيهَا آدَمُ، فَقَالَ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ السَّلامَ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ، قَالَ: هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا، فَسَلَّمْتُ، فَرَدَّا ثُمَّ قَالا: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ يُوسُفُ، قَالَ: هَذَا يُوسُفُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ إِدْرِيسُ، قَالَ: هَذَا إِدْرِيسُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ هَارُونُ، قَالَ: هَذَا هَارُونُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ مُوسَى، قَالَ: هَذَا مُوسَى، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ السَّلامَ، ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، فَلَمَّا تَجَاوَزْتُ بَكَى، قِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: أَبْكِي لأَنَّ غُلامًا بُعِثَ بَعْدَي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّابِعَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ إِبْرَاهِيَمُ، قَالَ: هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيَمُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ السَّلامَ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ رُفِعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَنَبْقُهَا مِثْلُ قِلالِ هَجَرَ، وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ، قَالَ: هَذِهِ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، وَأَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ، نَهْرَانِ بَاطِنَانِ، وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ، فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ، فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ، ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ"، قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رَأَى الْبَيْتَ الْمَعْمُورَ، وَيَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسٍ:" ثُمَّ أُتِيتُ بِآنَاءَ مِنْ خَمْرٍ، وَآنَاءَ مِنْ لَبَنٍ، وَآنَاءَ مِنْ عَسَلٍ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ: هَذِهِ الْفطْرَةِ، أَنْتَ عَلَيْهَا وَأُمَّتُكَ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ الصَّلاةُ خَمْسِينَ صَلاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ: بِمَ أُمِرْتَ؟ قَالَ: أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلاةً كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لا تَسْتَطِيعُ خَمْسِينَ صَلاةً كُلَّ يَوْمٍ، وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلُكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ، فَرَجَعْتُ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ، فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ، فَأُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: بِمَ أُمِرْتَ؟ قَالَ: أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لا تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلُكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ، قَالَ: قُلْتُ: سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ، لَكِنِّي أَرْضَى وَأُسَلِّمُ، فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادَانِي مُنَادٍ: أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي، وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو واقعہ معراج کے بارے میں بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک دن میں حطیم میں سویا ہوا تھا۔
(راوی نے بعض اوقات حطیم کے لئے لفظ حجر استعمال کیا ہے)
اسی دوران ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہاں سے لے کے یہاں تک چیر دیا۔ (راوی کہتے ہیں) جارود جو میرے پہلو میں موجود تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا: اس سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: گلے کے نیچے سے لے کر اور زیر ناف بال اگنے کی جگہ تک (کے حصے کو چیر دیا) (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر اس نے میرا دل نکالا، پھر سونے سے بنا ہوا ایک طشت لایا گیا، جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا تھا، پھر میرے دل کو دھویا گیا، پھر اسے (اپنی جگہ پر رکھ کر، سی دیا گیا)، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا؟ جو خچر سے کچھ چھوٹا تھا، اور گدھے سے کچھ بڑا تھا۔ وہ سفید رنگ کا تھا، تو جارود نے ان سے کہا: اے ابوحمزہ! وہ براق تھا؟ سیدنا انس نے فرمایا: جی ہاں۔ جہاں تک نگاہ جاتی ہے، وہاں تک اس کا ایک قدم ہوتا تھا۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) مجھے اس پر سوار کیا گیا، جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر آسمان دنیا کی طرف آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد دریافت کیا گیا: انہیں بلایا گیا ہے؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: جی ہاں۔ تو یہ کہا: گیا: انہیں خوش آمدید! وہ کتنے اچھے آنے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں اور دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا آدم علیہ السلام موجود تھے، جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ آپ کے جد امجد سیدنا آدم علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر بولے: نیک بیٹے اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر دوسرے آسمان پر آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا:۔ دریافت کیا گیا: کون
ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو یہ کہا: گیا: انہیں خوش آمدید یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے شخص ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا۔
جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا یحییٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسی علیہ السلام موجود تھے یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا یحییٰ علیہ السلام اور یہ سیدنا عیسی علیہ السلام ہیں آپ ان دونوں کو سلام کیجئے، میں نے انہیں سلام کیا، تو ان دونوں حضرات نے جواب دیا: پھر دونوں نے کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر تیسرے آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل! دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو کہا: گیا۔ انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں۔ پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا یوسف علیہ السلام موجود تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ سیدنا یوسف علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا: پھر انہوں نے کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کو سلام۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر چوتھے آسمان پر آئے۔ انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔
تو یہ کہا: گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا۔
جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا ادریس علیہ السلام موجود تھے، جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا ادریس علیہ السلام ہیں، آپ انہیں سلام کیجئے۔
میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر ارشاد فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر پانچویں آسمان پر آئے۔ انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ میں نے جواب دیا: جبرائیل، دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو یہ کہا: گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے آنے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا ہارون علیہ السلام موجود تھے۔
جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا ہارون علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔
پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر چھٹے آسمان پر آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔
دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟
انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔
دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو کہا: گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام موجود تھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا، تو
انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ جب میں وہاں سے آگے بڑھا تو وہ رونے لگے، ان سے دریافت کیا گیا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ یہ نوجوان جو میرے بعد مبعوث ہوئے ہیں، ان کی اُمت کے افراد، میری امت کے مقابلے میں، زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے۔
پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر ساتویں آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا:؟ تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا گیا: جی ہاں! پھر یہ کہا: گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لاتے ہیں۔
پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام موجود تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ آپ کے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں آپ انہیں سلام کیجئے۔
میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر ارشاد فرمایا: نیک بیٹے اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہی کی طرف بلند کیا گیا، تو اس کا پھل حجر کے مٹکوں جتنا بڑا تھا، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی مانند تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا: یہ سدرۃ المنتہی ہے۔
وہاں چار نہریں موجود تھیں دو نہریں باطنی تھیں اور دو ظاہری تھیں۔
میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل علیہ السلام یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک دو باطنی نہروں کا تعلق ہے، تو یہ جنت کی دو نہریں ہیں اور جہاں تک دو ظاہری نہروں کا تعلق ہے، تو یہ دریائے نیل اور دریائے فرات ہیں۔
پھر مجھے بیت المعمور کی طرف اٹھایا گیا۔
یہاں قتادہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: حسن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کو دیکھا ہے۔ اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور وہ دوبارہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوتے۔
اس کے بعد قتادہ واپس سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرف آ گئے، جس میں یہ الفاظ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
پھر میرے سامنے شراب کا ایک برتن، دودھ کا ایک برتن اور شہد کا ایک برتن لایا گیا، تو میں نے دودھ لے لیا، تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ وہ فطرت ہے، جس پر آپ اور آپ کی امت گامزن رہیں گے، پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔
جب میں واپس آیا، تو میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے ہوا، تو انہوں نے دریافت کیا: آپ کو کس بات کا حکم دیا
گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: مجھے روزانہ پچاس نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: آپ کی اُمت روزانہ پچاس نمازیں ادا نہیں کر سکے گی، میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں اور میں نے بنی اسرائیل کا پورا تجربہ کیا ہے۔
آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنی اُمت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے، میں واپس آیا (یہ درخواست کی) تواللہ تعالیٰ نے اس میں سے دس نمازیں معاف کر دیں۔
پھر میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اس کی مانند بات کہی۔ میں پھر واپس آیا تواللہ تعالیٰ نے (مزید) دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی۔ میں پھر واپس آیا تواللہ تعالیٰ نے (مزید) دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی۔ میں واپس گیا تو مجھے روانہ دس نمازیں ادا کرنے کا حکم ہوا۔
میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی۔ میں پھر واپس آیا تو مجھے روزانہ پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم ملا۔
میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا انہوں نے دریافت کیا: آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: مجھے روزانہ پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: آپ کی اُمت روزانہ پانچ نمازیں ادا نہیں کر سکے گی۔ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور بنی اسرائیل کا پورا تجربہ کر چکا ہوں۔
آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنی اُمت کے لئے مزید تخفیف کی درخواست کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں نے اپنے پروردگار سے اتنی درخواست کی کہ اب مجھے حیا آتی ہے۔
میں راضی ہوں اور میں اسے تسلیم کرتا ہوں۔ جب میں وہاں سے آگے گزرا تو کسی پکارنے والے نے پکار کر کہا: میں نے اپنے فریضے کو برقرار رکھا اور اپنے بندوں پر تخفیف کر دی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 48]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (62): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥مالك بن صعصعة المازنيصحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← مالك بن صعصعة المازني
صحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥هدبة بن خالد القيسي، أبو خالد
Newهدبة بن خالد القيسي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← هدبة بن خالد القيسي
ثقة