صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
373. باب الغلول - ذكر ما يستحب للإمام ترك أخذ الغلول عمن غل إذا أتى به بعد قسم الغنيمة-
الغلول کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ جو شخص غلول کر چکا ہو اور بعد از تقسیم غنیمت لایا جائے اس سے غلول نہ لیا جائے (معاف کر دیا جائے)
حدیث نمبر: 4858
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ مَغْنَمًا أَمَرَ بِلالا فَنَادَى فِي النَّاسِ ثَلاثَةً، فَيَجِيءُ النَّاسُ بِغَنَائِمِهِمْ، فَيُخَمِّسُهَا، وَيَقْسِمُهَا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَا فِي الْغَنِيمَةِ، قَالَ: مَا سَمِعْتَ بِلالا نَادَى ثَلاثًا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ؟ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت حاصل ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں تین مرتبہ اعلان کر دیا لوگ اپنے طور پر مال غنیمت میں ملنے والی تمام چیزیں لے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے خمس نکال لیا اور باقی کو تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد ایک شخص بال سے بنی ایک لگام لے کر آیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ان چیزوں میں شامل ہے جو ہمیں مال غنیمت کے طور پر ملی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے بلال کو سنا نہیں تھا اس نے تین مرتبہ اعلان کیا تھا؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے لے کر کیوں نہیں آئے۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عذر پیش کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ایسے شخص بن جاؤ کہ تم اسے اپنے ساتھ قیامت کے دن لے کر آؤ گے۔ تو میں اسے تم سے قبول نہیں کروں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4858]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4838»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - مضى (4389). تنبيه!! رقم (4389) = (4406) من «طبعة المؤسسة». لَكِنَّ الحديث ليس موجود برقم (4389) وإنما موجود برقم (4789) الموافق (4809) من طبعة المؤسسة. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← عبد الله بن عمرو السهمي