صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
390. باب الموادعة والمهادنة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذه السنة تفرد بها جابر بن عبد الله-
صلح و جنگ بندی کا بیان - وہ خبر جو اس قول کو باطل کرتی ہے کہ اس سنت کو صرف جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا۔
حدیث نمبر: 4876
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: " بَايَعَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُوَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ، وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لا نَفِرَّ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِئَةٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الصَّحِيحُ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِئَةٍ عَلَى مَا قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ".
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پھر حدیبیہ کے موقع پر لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت درخت کے نیچے موجود تھے میں نے اس درخت کی ایک شاخ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے اوپر اٹھا رکھی تھی۔ ہم نے موت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہیں کی تھی بلکہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس بات پر کی تھی کہ ہم فرار اختیار نہیں کریں گے۔ اس دن لوگوں کی تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:) درست یہ ہے کہ صحابہ کرام کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، جیسا کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4876]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4856»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله. * [أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ] قال الناشر: انظر «إتحاف المهرة» (13/ 392) للحافظ ابن حجر.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
الحكم بن عبد الله الثقفي ← معقل بن يسار المزني