صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. ذكر الأمر للبيعين أن يلزما الصدق في بيعهما ويبينا عيبا علماه لأن ذلك سبب البركة في بيعهما-
بیع کا بیان - بیچنے والوں کو سچ بولنے اور عیب ظاہر کرنے کا حکم، کیونکہ اس میں برکت کا سبب ہے۔
حدیث نمبر: 4904
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذِبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا" .
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دونوں افراد کو (سودا ختم کرنے کا) اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور بیان کریں تو ان کے سودے میں ان کے لئے برکت رکھی جاتی ہے اور اگر وہ دونوں جھوٹ بولیں اور (سودے کی خامی کو) چھپائیں تو ان کے سودے سے برکت کو مٹا دیا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4904]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4884»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1481): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الله بن الحارث الهاشمي ← حكيم بن حزام القرشي