صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
130. باب الجائحة - ذكر البيان بأن زجر المرء عن أخذ ثمن ثمره بعد أن أصابته الجائحة زجر تحريم لا زجر ندب-
آفت و نقصان کا بیان - بیان کہ آفت کے بعد پھل کی قیمت لینے سے روکنا تحریم کے طور پر ہے نہ کہ صرف ترغیب کے طور پر
حدیث نمبر: 5034
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا، فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَلا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مِنْ مَالِ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ" ، قُلْتُ لأَبِي الزُّبَيْرِ: هَلْ سَمَّى لَكُمُ الْجَوَائِحَ؟، قَالَ: لا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اپنے کسی بھائی سے پھل خریدتے ہو اور اسے آفت لاحق ہو جاتی ہے، تو تمہارے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے۔ تم ناحق طور پر اپنے بھائی کے مال میں سے کس بنیاد پر حاصل کرو گے؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد ابوزبیر سے دریافت کیا: کیا تمہارے استاد نے تمہارے سامنے لاحق ہونے والی آفت کا نام لیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5034]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1554، وابن الجارود فى "المنتقى"، 696، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5034، 5035، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2269، 2270، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4540، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3470، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2598، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2219، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10741، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2908» «رقم طبعة با وزير 5012»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 113)، «أحاديث البيوع»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5034 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري