🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
140. باب الديون - ذكر إظلال الله جل وعلا في القيامة في ظله من أنظر معسرا أو وضع له-
قرض و ادائیگی کا بیان - قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دینا اس شخص کو جو تنگدست پر آسانی کرے یا اس سے کچھ کم کردے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5044
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حُرَزَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيَنَا أَبُو الْيَسَرِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلامٌ لَهُ، وَعَلَى أَبِي الْيَسَرِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، وَعَلَى غُلامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا مِنْ غَضَبٍ، قَالَ: أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلانِ بْنِ فُلانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ، فَقُلْتُ: أَثِمْتُ؟ قَالُوا: لا، فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ، فَقُلْتُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟ فَقَالَ: سَمِعَ صَوْتَكَ فَدَخَلَ، فَقُلْتُ: اخْرُجْ إِلَيَّ، فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ، فَخَرَجَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ؟ قَالَ: أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ، ثُمَّ لا أَكْذِبُكَ، خَشِيتُ وَاللَّهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ، وَأَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتُ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ وَاللَّهِ مُعْسِرًا، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ؟ قَالَ: اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ؟ قَالَ: اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ: بِصَحِيفَتِهِ فَمَحَاهَا، وَقَالَ: إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِ، وَإِلا فَأَنْتَ فِي حِلٍّ، فَأَشْهَدُ بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَشَارَ إِلَى نِيَاطِ قَلْبِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ" ، أَبُو الْيَسَرِ: اسْمُهُ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو.
عبادہ بن ولید بیان کرتے ہیں: میں اور میرے والد علم کے حصول کے لئے انصار کے پاس آئے۔ اس سے پہلے کہ وہ لوگ انتقال کر جائیں تو ہماری ملاقات سب سے پہلے سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا۔ سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ نے ایک چادر اور ایک معافری چادر پہنی ہوئی تھی۔ ان کے غلام نے بھی ایک چادر اور ایک معافری چادر پہنی ہوئی تھی۔ میرے والد نے ان سے کہا: مجھے آپ کے چہرے پر غصے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں میں نے فلاں بن فلاں سے کچھ رقم لینی تھی میں اس کے گھر آیا میں نے دریافت کیا: کیا وہ یہاں ہے۔ گھر والوں نے جواب دیا: جی نہیں پھر اس کا بیٹا نکل کر میرے پاس آیا میں نے دریافت کیا تمہارا باپ کہاں ہے۔ اس نے کہا: اس نے آپ کی آواز سن لی تھی وہ اندر چلا گیا ہے۔ میں نے (اس آدمی کو مخاطب کر کے) کہا: تم نکل کر میرے پاس آؤ مجھے پتہ ہے تم کہاں ہو وہ نکل کر میرے پاس آیا میں نے دریافت کیا تم کس وجہ سے چھپنے پر مجبور ہوئے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم میں آپ کو بتاتا ہوں میں آپ کے ساتھ غلط بیانی نہیں کروں گا۔ اللہ کی قسم مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ اگر (میں آپ کے سامنے آیا) اور میں نے آپ کے ساتھ بات چیت کی تو مجھے آپ کے ساتھ جھوٹ بولنا پڑے گا۔ میں آپ کے ساتھ کوئی وعدہ کر لوں گا پھر اس کی خلاف ورزی کرنی پڑے گی۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں (اب میں آپ کے ساتھ اس طرح کرتا ہوا اچھا تو نہیں لگتا) اللہ کی قسم میں ایک تنگ دست شخص ہوں۔ سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: کیا اللہ کی قسم ایسا ہی ہے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ایسا ہی ہے۔ سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اپنا صحیفہ لیا اور اسے مٹا دیا اور بولے: اگر تمہیں ادائیگی کی گنجائش مل جائے تو ادا کر دینا ورنہ میری طرف سے یہ معاف ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میری ان دونوں آنکھوں نے اس بات کو سنا اور میرے دل نے اس بات کو محفوظ رکھا۔ انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دیتا ہے یا اسے ادائیگی (مکمل یا جزوی طور پر) معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنا خاص سایہ عطا کرے گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابویسر کا نام کعب بن عمرو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5044]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5022»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (844): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن عمرو السلمي، أبو اليسرصحابي
👤←👥عبادة بن الوليد الأنصاري، أبو الصامت، أبو الوليد
Newعبادة بن الوليد الأنصاري ← كعب بن عمرو السلمي
ثقة
👤←👥يعقوب بن مجاهد المخزومي، أبو يوسف
Newيعقوب بن مجاهد المخزومي ← عبادة بن الوليد الأنصاري
ثقة
👤←👥حاتم بن إسماعيل الحارثي، أبو إسماعيل
Newحاتم بن إسماعيل الحارثي ← يعقوب بن مجاهد المخزومي
ثقة
👤←👥عمرو بن أبي عمرو الكلابى، أبو محمد
Newعمرو بن أبي عمرو الكلابى ← حاتم بن إسماعيل الحارثي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← عمرو بن أبي عمرو الكلابى
ثقة