صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
16. ذكر الزجر عن أن يأخذ المرء ما حكم له الحاكم بالشهود إذا علم ضده بينه وبين خالقه فيه-
- یہ تنبیہ کہ اگر حاکم کسی کے حق میں گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ دے، مگر وہ شخص اپنے ضمیر میں جانتا ہو کہ یہ فیصلہ غلط ہے، تو اسے وہ چیز نہیں لینی چاہیے۔
حدیث نمبر: 5070
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ" .
سیده زینب رضی اللہ عنہا سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: میں ایک انسان ہوں تم لوگ اپنے مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو البتہ اگر کوئی شخص اپنے موقف کو ثابت کرنے میں دوسرے کے مقابلے میں زیادہ تیز ہو اور میں نے جو سنا میں اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ دے دوں، تو میں جس شخص کے حق میں اس کے کسی بھائی کے حق کا فیصلہ دوں تو وہ اسے قبول نہ کرے کیونکہ میں نے اس کے لئے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5070]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5047»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (455 و 1162): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي