صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. ذكر الزجر عن أخذ المرء ما حكم له الحاكم إذا علم بينه وبين خالقه ضده-
- یہ تنبیہ کہ اگر انسان جانتا ہو کہ حاکم کا فیصلہ اللہ کے ہاں اس کے خلاف ہے تو اسے وہ چیز نہیں لینی چاہیے جس کا فیصلہ اس کے حق میں ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 5072
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ" .
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”میں ایک انسان ہوں۔ تم لوگ میرے پاس مقدمات لے کر آتے ہو۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص اپنا موقف پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو تو جس شخص کے حق میں، میں اس کے بھائی کے حق سے متعلق کسی چیز کا فیصلہ دے دوں تو میں نے اس کو جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5072]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5049»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي