پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
16. ذكر إباحة قبول المرء الهبة للشيء المشاع بينه وبين غيره-
- اس بات کا بیان کہ کسی شخص کے لیے مشترکہ چیز میں اپنا حصہ بطور ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5112
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَثْنَاءِ الرَّوْحَاءِ، وَهُمْ حُرُمٌ، إِذَا حِمَارٌ مَعْقُورٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ، فَيُوشِكُ صَاحِبُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ"، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ هُوَ الَّذِي عَقَرَ الْحِمَارَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَمَهُ بَيْنَ النَّاسِ .
سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ روحاء کے قریب ہم پہنچے تو ہم سب حالت احرام میں تھے۔ وہاں ایک زیبرا تھا جو زخمی تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے رہنے دو اس کا مالک اس کے پاس آ جائے گا پھر بہزی قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا یہ وہ شخص تھا جس نے اس زیبرے کو زخمی کیا تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اس کو استعمال کر سکتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اس کا گوشت لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5112]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5112، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6681، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4355، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4837، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3808، 3809» «رقم طبعة با وزير 5090»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق أدناه. * [قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ] قال الشيخ: قلت: وعنه: أخرجه النسائي (2/ 200). وأخرجه أحمد (3/ 418 و 452) وغيرُه مِنْ طريق يحيى بن سعيد بن إِبراهِيم ... به. وكذا الطبراني (5/ 298 - 299).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5112 in Urdu
عيسى بن طلحة القرشي ← عمير بن سلمة الضمري