🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. ذكر خبر ثالث يصرح بأن الزجر عن المخابرة والمزارعة اللتين نهى عنهما إنما زجر عنه إذا كان على شرط مجهول-
- یہ تیسری خبر جو بتاتی ہے کہ ممانعت صرف ان دو صورتوں (مخابرہ و مزارعت) میں ہے جن میں شرط غیر معلوم ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5199
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ أَبُو يَزِيدَ الْمُعَدَّلُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ، فَغَلَبَ عَلَى الأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ، فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يُجْلَوْا مِنْهَا وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ، وَيَخْرُجُونَ مِنْهَا، فَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنْ لا يَكْتُمُوا وَلا يُغَيِّبُوا شَيْئًا، فَإِنْ فَعَلُوا فَلا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلا عِصْمَةَ، فَغَيَّبُوا مَسْكًا فِيهِ مَالٌ وَحُلِيٌّ لِحُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ كَانَ احْتَمَلَهُ مَعَهُ إِلَى خَيْبَرَ حِينَ أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّ حُيَيٍّ: مَا فَعَلَ مَسْكُ حُيَيٍّ الَّذِي جَاءَ بِهِ مِنَ النَّضِيرِ؟ فَقَالَ: أَذْهَبَتْهُ النَّفَقَاتُ وَالْحُرُوبُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَهْدُ قَرِيبٌ وَالْمَالُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَمَسَّهُ بِعَذَابٍ، وَقَدْ كَانَ حُيَيٌّ قَبْلَ ذَلِكَ قَدْ دَخَلَ خَرِبَةً، فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ حُيَيًّا يَطُوفُ فِي خَرِبَةٍ هَاهُنَا، فَذَهَبُوا فَطَافُوا، فَوَجَدُوا الْمَسْكَ فِي خَرِبَةٍ فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَيْ أَبِي حَقِيقٍ وَأَحَدُهُمَا زَوْجُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَسَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ لِلنَّكْثِ الَّذِي نَكَثُوهُ، وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمُ مِنْهَا، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الأَرْضِ نُصْلِحُهَا، وَنَقُومُ عَلَيْهَا، وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا لأَصْحَابِهِ غِلْمَانُ يَقُومُونَ عَلَيْهَا فَكَانُوا لا يَتَفَرَّغُونَ أَنْ يَقُومُوا، فَأَعْطَاهُمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ مِنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَأْتِيهِمْ كُلَّ عَامٍ يَخْرُصُهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يُضَمِّنُهُمُ الشَّطْرَ، قَالَ: فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةَ خَرْصِهِ، وَأَرَادُوا أَنْ يَرْشُوهُ، فَقَالَ: يَا أَعْدَاءَ اللَّهِ، أَتُطْعِمُونِي السُّحْتَ، وَاللَّهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَلأَنْتُمْ أَبْغَضُ إَلَيَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ مِنَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلا يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ وَحُبِّي إِيَّاهُ عَلَى أَنْ لا أَعْدِلَ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ. قَالَ: وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنَيْ صَفِيَّةَ خُضْرَةً، فَقَالَ: يَا صَفِيَّةُ، مَا هَذِهِ الْخُضَرَةُ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَأْسِي فِي حِجْرِ بْنِ أَبِي حَقِيقٍ وَأَنَا نَائِمَةٌ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَطَمَنِي، وَقَالَ: تَمَنَّيْنَ مَلِكَ يَثْرِبَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلَيَّ قَتَلَ زَوْجِي وَأَبِي وَأَخِي، فَمَا زَالَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ، وَيَقُولُ: إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَيَّ الْعَرَبَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِي، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ كُلَّ عَامٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ. فَلَمَّا كَانَ زَمَنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ غَشُّوا الْمُسْلِمِينَ، وَأَلْقَوْا ابْنَ عُمَرَ مِنْ فَوْقِ بَيْتٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ كَانَ لَهُ سَهْمٌ مِنْ خَيْبَرَ فَلْيَحْضُرْ حَتَّى نَقْسِمَهَا بَيْنَهُمْ، فَقَسَمَهَا عُمَرُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ رَئِيسُهُمْ: لا تُخْرِجْنَا دَعْنَا نَكُونُ فِيهَا كَمَا أَقَرَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ عُمَرُ لِرَئِيسِهِمْ: أَتَرَاهُ سَقَطَ عَنِّي قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ: كَيْفَ بِكَ إِذَا أَفَضَتْ بِكَ رَاحِلَتُكَ نَحْوَ الشَّامِ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا، وَقَسَمَهَا عُمَرُ بَيْنَ مَنْ كَانَ شَهِدَ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے اپنے قلعے میں پناہ لے لی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زمین کھیتوں اور کھجوروں کے باغات پر غالب آ گئے تو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس شرط پر صلح کر لی کہ انہیں وہاں سے جلا وطن کر دیا جائے اور وہ اپنی سواریوں پر جو کچھ لاد کر لے جا سکتے ہیں اسے لے جا سکیں گے البتہ سونا اور چاندی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں گے وہ لوگ وہاں سے نکلنے کے لئے تیار ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ کوئی چیز چھپائیں گے نہیں اور کوئی چیز غائب نہیں کریں گے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پھر ان کے لئے کوئی ذمہ اور کوئی پناہ نہیں ہو گی۔ انہوں نے اس میں سے ایک تھیلے کو غائب کر دیا جس میں کچھ مال تھا اور زیورات تھے وہ حی بن اخطب کے تھے وہ اپنے ساتھ اس تھیلے کو اٹھا کر خیبر آیا تھا اس وقت جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیی کے چچا سے کہا: حیی کے اس تھیلے کا کیا بنا جو وہ بنو نضیر سے لے کر آیا تھا، تو اس کے چچا نے کہا: اخراجات اور جنگوں نے سب کچھ خرچ کروا دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی تو اتنا زیادہ وقت نہیں گزرا وہ مال اس سے زیادہ تھا (کہ ختم ہو جاتا) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیدنا زبیر بن عوام کے سپرد کیا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے مارا پیٹا حیی بن اخطب اس سے پہلے ایک کھنڈر میں داخل ہو چکا تھا تو اس نے کہا: میں نے حیی کو یہاں کے ایک کھنڈر میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا تھا۔ لوگ گے وہاں چکر لگایا تو انہیں اس کھنڈر میں سے وہ تھیلا مل گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوحقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کروا دیا ان میں سے ایک حیی بن اخطب کی صاحب زادی سیدہ صفیہ کا شوہر بھی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا لیا اور ان کے اموال لوگوں میں تقسیم کر دیئے۔ آپ نے ان لوگوں کو وہاں سے جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہمیں ہماری سرزمین پر رہنے دیں۔ ہم یہاں کام کاج کریں گے۔ اس کی دیکھ بھال کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے پاس ایسے لوگ نہیں تھے جو زمین کی دیکھ بھال کرتے اور وہاں کی نگرانی کرتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی سرزمین ان لوگوں کو اس شرط پر دی کہ وہاں کی زراعت کھجوروں اور دیگر چیزوں میں سے نصف حصہ ان لوگوں کو ملے گا (اور نصف حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا جائے گا)؟ جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں گے (یعنی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں گے یہ معاہدہ ختم کر دیں گے)
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہر سال وہاں آیا کرتے تھے ان کی پیداوار کا اندازہ لگاتے تھے پھر وہ ان لوگوں کو نصف ادائیگی کا پابند کرتے تھے راوی کہتے ہیں: ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ کے اندازے کی سختی کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی انہوں نے پہلے انہیں رشوت دینے کی بھی کوشش کی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے دشمنو! کیا تم مجھے حرام کھلانا چاہتے ہو۔ اللہ کی قسم میں تمہارے پاس اس ہستی کی طرف سے آیا ہوں۔ جو میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور تم لوگ میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو یہاں تک کہ بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہو لیکن اس کے باوجود تمہارے ساتھ میری نفرت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میری محبت بھی مجھے اس چیز پر آمادہ نہیں کر سکی کہ میں تمہارے ساتھ نا انصافی کروں تو ان لوگوں نے کہا: اسی (ایمان داری کی وجہ سے) آسمان اور زمین قائم ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی دونوں آنکھوں پر سبز رنگ کا نشان دیکھا تو دریافت کیا: اے صفیہ! یہ سبز رنگ کا نشان کسی وجہ سے ہے تو انہوں نے بتایا میرا سر ابوحقیق کے صاحب زادے (یعنی میرے سابقہ شوہر) کی گود میں تھا۔ میں اس وقت سوئی ہوئی تھی میں نے خواب میں دیکھا کہ چاند میری گود میں آ گیا ہے۔ (بیدار ہونے کے بعد) میں نے اپنے شوہر کو اس بارے میں بتایا تو اس نے مجھے ایک طمانچہ لگایا اور بولا: تم یثرب کے بادشاہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آرزو مند ہو۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت تھے کیونکہ انہوں نے میرے شوہر میرے والد اور میرے بھائی کو قتل کروایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل میرے سامنے عذر بیان کرتے رہے۔ آپ یہ فرماتے تھے تمہارے والد نے تمام عربوں کو میرے خلاف کر دیا تھا۔ اس نے یہ کیا تھا اس نے وہ کیا تھا (اس وجہ سے میں اس سے لڑنے پر مجبور ہوا تھا) یہاں تک کہ میرے دل میں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارے میں جو ناپسندیدگی تھی) وہ ختم ہو گئی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے ہر خاتون کو ہر سال کھجور کے اسی (۸۰) وسق اور جو کے بیسں (۲۰) وسق دیا کرتے تھے جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت آیا اور (خبیر کے یہودیوں نے) مسلمانوں کے ساتھ دھوکا کرنا شروع کیا اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے کو گھر کی چھت سے نیچے گرا دیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس شخص کا خبیر میں مخصوص حصہ ہے وہ آ جائے تاکہ ہم اسے ان کے درمیان تقسیم کر دیں پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ ان کے سردار نے کہا: آپ ہمیں (خیبر سے) نہ نکالیں آپ ہمیں یہاں رہنے دیں، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہاں رہنے دیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے سردار سے کہا: کیا تم اس کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو کہ میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے برخلاف کیا ہے۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہاری سواری تمہیں لے کر شام کی طرف بڑھ رہی ہو گی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں کی زمین ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جو صلح حدیبیہ میں موجود تھے اور غزوہ خیبر میں شریک ہوئے تھے۔
[صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5199]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5176»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (2658).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← عبيد الله بن عمر العدوي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥عبد الواحد بن غياث الصيرفي، أبو بحر
Newعبد الواحد بن غياث الصيرفي ← حماد بن سلمة البصري
صدوق حسن الحديث
👤←👥خالد بن النضر القرشي، أبو يزيد
Newخالد بن النضر القرشي ← عبد الواحد بن غياث الصيرفي
ثقة